اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا ہے کہ حرم مقدس حسینی سے وابستہ خواتین کے لیے قائم سیدہ خدیجہ کبریٰ (علیہا السلام) تخصصی ہسپتال نے کئی برس کی مسلسل جدوجہد کے بعد خواتین کے لیے ایک کامیاب اور تخصصی طبی تجربہ قائم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہسپتال کی کامیابیاں روایتی طبی شعبوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ پیچیدہ اور جدید طبی تخصصات تک بھی وسعت اختیار کرچکی ہیں۔
انہوں نے یہ بات ہسپتال کی تیسری توسیع کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی، جس میں حرم مقدس حسینی کے جنرل سیکریٹری بھی موجود تھے۔
اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے نے کہا:
’’سب سے پہلے میں حرم مقدس حسینی کی جنرل سیکریٹریٹ، ہسپتال کی انتظامیہ، طبی و نرسنگ عملے کا تہِ دل سے شکریہ اور اظہارِ تشکر کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک کامیاب طبی تجربہ پیش کیا۔‘‘
انہوں نے وضاحت کی کہ خواتین کے لیے ایک خصوصی ہسپتال کے قیام کا مقصد ایسا محفوظ اور پُرسکون ماحول فراہم کرنا تھا جہاں پردے اور عفت کے تقاضوں کا خیال رکھا جائے اور جو انسانی فطرت اور شرعی احکام سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے قیام کا مقصد صرف زچگی یا اطفال کے شعبے میں خدمات فراہم کرنا نہیں تھا، بلکہ تشخیص و علاج کے مختلف تخصصات کو وسعت دینا، پیچیدہ جراحی آپریشنز انجام دینا اور عراقی خواتین ڈاکٹرز کی اس صلاحیت کو اجاگر کرنا بھی تھا کہ وہ مشکل اور پیچیدہ طبی شعبوں میں قدم رکھ کر کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو ابتدا میں بعض طبی ماہرین کی جانب سے تردد اور شکوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ قابلِ تردید بات تھی کہ خواتین کے لیے مخصوص ہسپتال پیچیدہ طبی شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ تاہم، خواتین طبی عملے کی صلاحیت اور ان کی کامیابی پر اعتماد ابتدا ہی سے موجود تھا۔ گزشتہ برسوں کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں نے نہ صرف ہسپتال کی انتظامیہ بلکہ معاشرے کے اعتماد کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال نے متعدد طبی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور ہماری کوشش ہے کہ کربلا اور دیگر شہروں سے مزید باصلاحیت خواتین طبی ماہرین کو ہسپتال کی طرف راغب کیا جائے۔ ساتھ ہی خواتین ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ پیچیدہ اور مشکل طبی تخصصات کا انتخاب کریں اور اپنے مستقبل کو صرف زچگی اور اطفال کے شعبوں تک محدود نہ رکھیں۔
انہوں نے زور دیا کہ میڈیکل کالجوں کی طالبات، نیز دورانِ ہاؤس جاب، ریزیڈنسی اور تربیتی مراحل سے گزرنے والی ڈاکٹرز کو پیچیدہ طبی تخصصات کی جانب رہنمائی کی جائے، تاکہ ایسی باصلاحیت خواتین طبی ماہرین تیار ہوسکیں جو ان شعبوں میں عملی تجربہ، مہارت اور تخصص حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
شیخ عبدالمہدی کربلائی نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ پر مضبوط ایمان، اس پر توکل اور اپنے آپ پر اعتماد کامیابی کے بنیادی عوامل ہیں۔ اسی کے ساتھ طبی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی کرنے، ان کی سرپرستی کرنے اور انہیں کامیابی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
’’ہمارے اصولوں میں امتیاز اور انفرادیت کا حصول شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہسپتال کو ترقی کی ایسی بلند سطح تک پہنچایا جائے کہ مستقبل میں اس کی خدمات اور کامیابیاں عالمی سطح پر بھی نمایاں ہوں۔ ہماری خواہش ہے کہ خواتین طبی ماہرین ایسے جدید اور پیچیدہ آپریشنز انجام دینے کے قابل ہوجائیں جو خطے کی سطح پر اپنی نوعیت کے اولین آپریشنز میں شمار ہوں۔‘‘
