حرم مقدس حسینی کے جنرل سیکریٹری استاد حسن رشید جواد العبایجی نے اس امر پر زور دیا ہے کہ حرم مقدس حسینی شعبۂ صحت کو مزید ترقی دینے اور مقدس کربلا کو ایک ’’شہرِ شفا‘‘ میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جیسا کہ اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے نے اسے قرار دیا ہے۔ طبی میدان میں ہونے والی یہ توسیع اور پیش رفت اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار خواتین کے لیے قائم تخصصی ہسپتال سیدہ خدیجہ کبریٰ (علیہا السلام) کی تیسری توسیع کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی بھی موجود تھے۔
حرم مقدس حسینی کے جنرل سیکریٹری نے کہا:
’’دینی ادارے اور مرجعیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسان کی نگہداشت اور اس کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔ اسی مقصد کے تحت شعبۂ طب میں توسیع اور ترقی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ وژن دراصل انسان کی تکریم اور اس کی بہتر نگہداشت کا تقاضا کرتا ہے۔ اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے اور شرعی متولی کی جانب سے اختیار کی گئی یہ پدرانہ نگہداشت، خصوصاً کم آمدنی والے افراد اور نادار و مستحق خاندانوں کی خدمت، انسانی خدمت کے شعبے میں اولین ترجیحات میں شامل ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر ہسپتال کے نئے طبی شعبوں کا جائزہ لیا گیا، جبکہ طبی عملے نے بڑے اور پیچیدہ جراحی آپریشنز کے حوالے سے اپنی کارکردگی بھی پیش کی، جو نہایت حوصلہ افزا امر ہے۔ اس سے عراقی طبی ماہرین کی صلاحیتوں اور پیچیدہ جراحی مداخلتیں کامیابی سے انجام دینے کی ان کی استعداد پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے اور ملک میں شعبۂ صحت کی ترقی کے حوالے سے امید پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ حرم مقدس حسینی کی جنرل سیکریٹریٹ، شہر کے محکمۂ صحت اور وزارتِ صحت کے تعاون سے کربلا کو
’’شہرِ شفا‘‘ میں تبدیل کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی، اور یہ سب کچھ اس وژن کے مطابق ہوگا جو حرم مقدس حسینی کے شرعی متولی نے پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ امید ان مسلسل کوششوں، مختلف اقدامات اور طبی خدمات کے معیار میں آنے والی نمایاں بہتری پر قائم ہے۔ نئے طبی شعبوں کا افتتاح اس بات کا نتیجہ ہے کہ ہسپتال پہلے سے قائم شعبوں کو مؤثر اور کامیاب انداز میں چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ امر اس بات کی بھی واضح دلیل ہے کہ ہسپتال میں مزید توسیع کی گنجائش موجود ہے اور آئندہ مزید ترقی یافتہ اور جدید شعبے بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا:
’’ہم ان کی ان کاوشوں پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، نئے شعبوں کے افتتاح پر بھی انہیں مبارک باد دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ انہیں مسلسل ترقی، پیش رفت اور کامیابی نصیب ہوتی رہے۔‘‘
