آیت اللہ سید ریاض الحکیم: قرآن کریم اسلام کا ابدی معجزہ اور امت کی پہچان کا محافظ ہے

حوزہ علمیہ کے نامور استاد آیت اللہ سید ریاض سعید الحکیم نے تاکید کی ہے کہ قرآن کریم دینِ اسلام کا ایک ایسا ابدی معجزہ ہے جس نے زمانوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود امتِ مسلمہ کی پہچان کی حفاظت کی ہے، اور یہ لوگوں تک ہدایت اور اسلام کا پیغام پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحنِ حسینی شریف میں "انٹرنیشنل قرآن ویک" کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس باوقار تقریب میں اعلیٰ مذہبی مرجع کے نمائندے علامہ شیخ عبدالمہدی الکربلائی، حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل محترم حسن رشید العبایجی اور دنیا کے 30 ممالک سے آئے ہوئے مندوبین شریک تھے۔

آیت اللہ سید ریاض الحکیم نے اپنے خطاب میں فرمایا: "امتِ مسلمہ کی زندگی میں قرآن کریم کے چند بنیادی کردار ہیں۔ پہلا یہ کہ قرآن اسلام کا وہ دائمی معجزہ ہے جو اسلامی پیغام کی بقا کے ساتھ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہے۔" انہوں نے مزید وضاحت کی کہ: "قرآن کا دوسرا اہم ترین کردار امتِ مسلمہ کی پہچان کی حفاظت کرنا اور اسے گمراہی و زوال سے بچانا ہے؛ کیونکہ یہ ایک ایسی محفوظ اور مستند الٰہی کتاب ہے جو ہر دور میں اسلامی اصولوں اور مسلمہ حقائق کی پاسبانی کرتی آئی ہے۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ: "پیغمبرِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کو 14 صدیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود قرآن کریم نے مسلمانوں کے بنیادی عقائد کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اور یہ کتاب مسلم امہ کے تشخص کو زندہ رکھنے کا سب سے بڑا عامل رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ: "قرآن مجید کا تیسرا پہلو انسانی دلوں اور جذبات پر اس کا براہِ راست اثر ہے۔ اپنی بے مثال فصاحت، بلاغت اور دلنشین اسلوب کی وجہ سے یہ دلوں کو چھو لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی خوبصورت تلاوت اور بہترین کارکردگی (حسنِ قرات) پر توجہ دینا، معاشرے کی ہدایت کے قرآنی مقاصد سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ: "نبی اکرم (ص) اور ائمہ اہل بیت (علہم السلام) سے منقول روایات میں قرآن پاک کو اچھے اور خوش الحان انداز میں پڑھنے پر بہت زور دیا گیا ہے، کیونکہ یہ طریقہ قرآنی مفاہیم کو لوگوں کے دلوں تک اتارنے اور ان میں خشوع و خضوع پیدا کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتا ہے۔"

سید ریاض الحکیم نے یہ بھی کہا کہ: "قرآنی سرگرمیاں اور پروگرام دنیا بھر کے مسلمانوں کو قرآن کے سائے تلے اکٹھا کرنے اور ان کے مابین مشترکات کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ علمی اور فکری اختلافات کے باوجود ایسی مہمات امتِ مسلمہ کو یکجا کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں۔"

آخر میں انہوں نے قرآنی شعبے میں حرم مقدس حسینی کی گرانقدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ: "یہ کوششیں حدیثِ ثقلین یعنی 'قرآن اور اہل بیت (ع)' کے باہمی ملاپ کی عملی تفسیر ہیں، جو معاشرے میں قرآنی ثقافت کو راسخ کرنے اور اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔"

واضح رہے کہ یہ انٹرنیشنل قرآن ویک (پانچواں کربلا بین الاقوامی ایوارڈ) صحنِ حسینی شریف میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں عراق اور دنیا بھر سے قرآنی شخصیات بڑی تعداد میں شریک ہیں، اور اس کا مقصد معاشرے میں قرآنی تعلیمات اور ثقافت کا فروغ ہے۔