حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل: قرآن کریم، سنت نبوی اور سیرت اہل بیت (علیہم السلام) کے مطابق اسلامی شخصیت کی تعمیر ایک مکمل معاشرے کے قیام کی بنیاد ہے

حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل جناب حسن رشید جواد العبایجی نے اشارہ کیا کہ قرآن کریم، سنت نبوی اور سیرت اہل بیت (علیہم السلام) کے مطابق اسلامی شخصیت کی تعمیر اور توحید کی اقدار کا فروغ ایک مکمل معاشرے کے قیام کی بنیاد ہے۔ یہ بات انہوں نے یونیورسٹی وارث الانبیاء (علیہ السلام) میں چوتھی بین الاقوامی علمی کانفرنس برائے رہنمائی (Guidance) کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔

حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ "اسلامی قانون (شریعت) کے مآخذ دو بنیادی ستونوں، قرآن کریم اور سنت نبویہ شریفہ پر قائم ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت (علیہم السلام) کے اقوال اور خطبات بھی شامل ہیں، جیسا کہ نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ اور رسالۃ الحقوق میں ذکر ہے۔" انہوں نے واضح کیا کہ "قرآن کریم ان مآخذ میں سرفہرست ہے، کیونکہ یہ ایک زندہ کلام ہے جو ہر دور اور ہر جگہ کے لیے موزوں ہے۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ "پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا فرمان ایک مکمل تربیتی ڈھانچہ پیش کرتا ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں بشمول مادی، روحانی، تعلیمی، اخلاقی اور سماجی جہتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ رسول اکرم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) امت کے لیے پہلے نمونہ عمل اور مربی تھے، اور آپ نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی تمام پہلوؤں میں تعلیمی اور رہنما عمل کے قائد تھے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "جدید تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہج میں زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے، رویوں کی اصلاح، اور فکری، نفسیاتی و سماجی مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے عملی ہدایات موجود ہیں۔ یہ منہج ہر زمانے اور جگہ کے لیے کارآمد ہے۔ آپ کا خطاب ایک متوازن اور صحت مند شخصیت کی تعمیر میں مدد دیتا ہے، امت کو پسماندگی اور ثقافتی بیگانگی سے آزاد کراتا ہے، اور ثقافتی یلغار اور گلوبلائزیشن کے نظام کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔"

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "تعلیمی عمل، اسکولوں کے نصاب اور تربیتی و رہنمائی مراکز میں اس خطاب (نبوی) کا استعمال اسلامی تعلیمی نظریے کے اطلاق کے لیے نئی راہیں کھولتا ہے۔ اس سے ایک ایسی مومن اور متوازن نسل تیار ہوگی جو جدید چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ایک ایسا نیک معاشرہ تشکیل دے سکے جو انسان کی مادی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی ہو۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "قرآن کریم، سنت نبوی اور سیرت اہل بیت (علیہم السلام) کے مطابق اسلامی شخصیت کی تعمیر اور توحید کی اقدار کا فروغ ایک ایسے مکمل معاشرے کے قیام کی بنیاد ہے جو عدل، مساوات، آزادی اور انسانی تکامل پر مبنی ہو۔ کلمہ توحید بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا سب سے اہم ذریعہ ہے تاکہ فرد اور معاشرے کی زندگی میں اسلامی نقطہ نظر کو مضبوط کیا جا سکے۔"

واضح رہے کہ چوتھی بین الاقوامی علمی کانفرنس برائے رہنمائی کا انعقاد اس نعرے کے تحت کیا گیا: (ثقافتی یلغار کے چیلنجوں کے تناظر میں مسلم خواتین کے مسائل کا رہنمایانہ حل)۔ یہ کانفرنس حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد دینی اصولوں کو مضبوط کرنا اور قرآن کریم اور سیرت اہل بیت (علیہم السلام) سے ماخوذ اخلاقی اقدار کو مستحکم کرنا ہے، تاکہ معاشرے کو فکری اور ثقافتی طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔