مرجعیت دینیہ اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبد المہدی الکربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ میڈیا کی وسعت اور سوشل میڈیا کے اثرات کی وجہ سے دنیا کو بڑھتے ہوئے فکری اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ بات انہوں نے کیو آر (QR) کوڈ ٹیکنالوجی والے قرآن مجید کی نگران بین الاقوامی کمیٹی سے ملاقات کے دوران کہی۔
مرجعیت دینیہ اعلیٰ کے نمائندے نے کہا کہ "قرآن کریم کی درست تلاوت اور تجوید و ترتیل کی تعلیم انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ دلوں کو قرآن کی طرف راغب کرنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہے"۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "اگلا مرحلہ معانی اور مضامین کو سمجھنا اور قرآن کریم کو بطور ضابطہ حیات اپنانے کے یقین کو پختہ کرنا ہے۔"
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "میڈیا اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے باعث دنیا کو بڑھتے ہوئے فکری اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ قرآنی شعور کو بیدار کیا جائے اور مسلمانوں کی زندگیوں میں اسلامی طرز زندگی کو رائج کیا جائے"۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "قرآن کریم ہدایت کی ایک جامع کتاب ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کی رہنمائی کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اصل روح کی عکاسی کرتی ہے۔"
شیخ الکربلائی نے مزید کہا کہ "آپ کی کوششیں قابل ستائش ہیں اور ہم قرآن کریم کی خدمت اور معاشرے کے مختلف طبقات، خاص طور پر نوجوانوں میں اس کی تعلیمات پھیلانے کے لیے آپ کے کام کی قدر کرتے ہیں۔"
انہوں نے "رابطے اور تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کی دعوت دی تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات اسلامی معاشروں کے زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچ سکیں، خاص طور پر افریقی ممالک اور انڈونیشیا جیسے خطوں میں جہاں قرآن کریم کی تعلیم کی شدید طلب ہے"، ساتھ ہی انہوں نے ان ممالک میں پائی جانے والی اعتدال اور رواداری کی فضا کو سراہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ "حرم مقدس حسینی نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے قرآنی کورسز کے انعقاد اور حفظ و تجوید میں چھپی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، اس کے علاوہ مختلف اسلامی ممالک کے طلبہ و طالبات کو علوم قرآن کی تعلیم دینے کے لیے ادارے قائم کیے ہیں۔"
انہوں نے "عالمی سطح پر قرآنی تعاون کو فروغ دینے کے لیے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے کی اہمیت" پر بھی زور دیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ "قرآن کریم کی خدمت ایک مسلسل ذمہ داری ہے، اور مومن کا عزم کسی خاص حد پر نہیں رکتا"، انہوں نے کام اور ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کی تلقین کی تاکہ دنیا کے کونے کونے تک قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
