مرجعیت دینیہ اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبد المہدی الکربلائی نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ نہج البلاغہ صرف فصاحت اور بلاغت کی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل علمی انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں قرآن مجید، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی سیرت سے ماخوذ اسلامی اور انسانی علوم شامل ہیں۔ یہ بات انہوں نے موسوعہ (جواهر الصاغة في جمع شروح نهج البلاغة) کے پہلے مرحلے کی نقاب کشائی کے دوران کہی، جس کی نگرانی حرم مقدس حسینی سے وابستہ ادارہ برائے علوم نہج البلاغہ نے کی ہے۔
مرجعیت دینیہ اعلیٰ کے نمائندے نے کہا کہ "امام مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف) کی ولادت باسعادت کی یاد منانے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان عملی کوشش کرے تاکہ وہ زمانہ غیبت میں ان کے انصار میں شامل ہو سکے، کیونکہ نصرت صرف ظہور کے زمانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا آغاز اہل بیت (علیہم السلام) کے قائم کردہ مفاہیم اور اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے ہوتا ہے۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ "نہج البلاغہ محض فصاحت و بلاغت کی کتاب نہیں، بلکہ ایک جامع علمی انسائیکلوپیڈیا ہے جو قرآن کریم، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی سیرت سے ماخوذ اسلامی و انسانی علوم پر مشتمل ہے، کیونکہ اس عظیم کتاب کو اب تک وہ وسیع علمی توجہ حاصل نہیں ہو سکی جس کی یہ مستحق ہے۔"
انہوں نے اشارہ کیا کہ "ادارہ علوم نہج البلاغہ کتاب کے متن کی تشریح اور اس کے ابواب کی تفصیل بیان کرنے میں ایک بڑی علمی ذمہ داری نبھا رہا ہے، خاص طور پر قرآنی، فکری، حکومتی اور انتظامی شعبوں میں۔" انہوں نے مزید توجہ دلائی کہ "تمام شروحات کو ایک انسائیکلوپیڈیا میں جمع کرنے کے ساتھ ساتھ تجزیہ اور موازنہ شامل کرنا، اور نصوص کے لغوی و بلاغی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔"
واضح رہے کہ موسوعہ (جواهر الصاغة في جمع شروح نهج البلاغة) کو سب سے بڑا علمی منصوبہ شمار کیا جاتا ہے جو نہج البلاغہ کی شروحات کو جمع کرنے، ان کا تجزیہ اور موازنہ کرنے سے متعلق ہے، اور اس کا مقصد اس لازوال کتاب کے علوم کا احیاء اور فکری و سماجی شعور میں اس کے مقام کو مضبوط کرنا ہے۔
