اعلیٰ مذہبی قیادت مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے نے لبنان کے 'دار الامام علی (علیہ السلام) برائے علومِ قرآنی' کے وفد کا استقبال

اعلیٰ مذہبی قیادت مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے صحنِ حسینی شریف میں اپنے دفتر میں بیروت (لبنان) کے 'دار الامام علی (علیہ السلام) برائے علومِ قرآنی' کے ایک قرآنی کورس اور پروگرام کے شرکاء سے ملاقات کی۔ یہ ادارہ حرم مقدس حسینی کے بین الاقوامی قرآنی تبلیغی مرکز سے وابستہ ہے۔

اعلیٰ مذہبی قیادت کے نمائندے نے اپنے خطاب کے دوران کہا: "ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے حقیقی شیعہ بلند قرآنی اخلاق کے حامل ہوتے ہیں، جو سماجی بقائے باہمی اور میل جول، بالخصوص دیگر مذاہب اور مسالک کے پیروکاروں کے ساتھ برتاؤ کی بنیاد ہے۔" انہوں نے مزید تاکید کی کہ "ان اقدار کا عملی زندگی میں مظاہرہ ضروری ہے تاکہ یہ اہل بیت (علیہم السلام) کے منہج کی سچی عکاسی کر سکیں۔"

انہوں نے واضح کیا کہ "ان اقدار پر ثابت قدمی اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکاروں کا حقیقی تشخص اجاگر کرنے کے لیے ناگزیر ہے، خاص طور پر متنوع معاشروں میں۔" انہوں نے بیان کیا کہ "مومنین جن مشکل حالات اور چیلنجز سے گزر رہے ہیں، وہ الہیٰ آزمائش کا حصہ ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: '(وہی ہے) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے'۔"

شیخ کربلائی نے مزید کہا کہ "آزمائش اور امتحان کی سنت ایک قوم سے دوسری قوم اور ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے میں مختلف ہو سکتی ہے، لیکن صبر، استقامت، حق کی نصرت اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا اہل بیت (علیہم السلام) کے راستے کا جوہر ہے، چاہے اس راہ میں کتنی ہی عظیم قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ یہ آزمائشیں ختم ہونے والی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم اجر ہی صابرین کا اصل بدلہ ہے۔"

واضح رہے کہ بیروت کے 'دار الامام علی (علیہ السلام) برائے علومِ قرآنی' کے وفد نے اپنی نمایاں قرآنی اور ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔

منسلکات