خون اور زبان کا سنگم

کربلا میں مردوں کی شہادت اور شام میں خواتین کی موجودگی اور اسیری کے پیچھے ایک عظیم الٰہی حکمت اور ایک مربوط مشن چھپا ہوا ہے۔ اس مشن کے دو اہم ستون تھے: خون اور پیغام۔

علماء اور مورخین اس "راز" کو درج ذیل نکات میں بیان کرتے ہیں:

1. مقصد کی تکمیل: خون اور زبان کا سنگم

تاریخ میں کہا جاتا ہے کہ: "کربلا کو خون سے لکھا گیا اور شام کو آنسوؤں اور خطبوں سے۔"

کربلا میں: امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کا مقصد سوئی ہوئی امت کو جھنجھوڑنا اور اسلام کے حقیقی چہرے کو بچانا تھا۔ یہ کام صرف عظیم ترین قربانی (شہادت) سے ہی ممکن تھا۔شام میں: اگر خواتین اور امام سجادؑ موجود نہ ہوتے، تو یزیدی پروپیگنڈا اس عظیم قربانی کو ایک "خانہ جنگی" یا "بغاوت" کا نام دے کر تاریخ کے پنوں میں دفن کر دیتا۔ جنابِ زینبؑ اور بی بی ام کلثومؑ نے اپنے خطبوں سے اس خون کو ضائع ہونے سے بچایا۔

2. یزیدی پروپیگنڈے کی ناکامی

یزید کا میڈیا سیل یہ تاثر دے رہا تھا کہ (نعوذ باللہ) کچھ باغیوں نے حکومت کے خلاف خروج کیا ہے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر شہر شہر پھرایا گیا، تو لوگ یہ پوچھنے پر مجبور ہو گئے کہ: "اگر یہ باغی ہیں، تو ان کے گھروں کی مستورات رسولؑ کی بیٹیاں کیسے ہیں؟" اس سے یزید کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا۔

3. وقت کے سلطان کی مرکزِ طاقت میں تذلیل

دمشق (شام) بنو امیہ کا گڑھ تھا جہاں لوگ برسوں سے صرف وہی اسلام جانتے تھے جو انہیں سنایا جاتا تھا۔

جب جنابِ زینبؑ نے یزید کے بھرے دربار میں اسے للکارا، تو اس کی "ظاہری فتح" "تاریخی شکست" میں بدل گئی۔ایک اسیر خاتون کا حاکمِ وقت کے سامنے یہ کہنا کہ: "یزید! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے، اللہ کی قسم تو ہمارا ذکر (لوگوں کے دلوں سے) نہیں مٹا سکے گا"، یہ کربلا کی فتح کا دوسرا مرحلہ تھا۔

4. انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنا

مردوں کا جنگ میں شہید ہوجانا شاید اس دور کے لوگوں کے لیے حیران کن نہ ہوتا، لیکن پاک بیبیوں کی اسیری، معصوم بچوں (جیسے جنابِ سکینہؑ اور جنابِ رقیہؑ) کی پیاس اور شام کے زندانوں میں ان کی تکلیف نے انسانیت کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیا۔ اس پہلو نے کربلا کو صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عالمگیر تحریک بنا دیا۔

خلاصہ:

اگر مرد کربلا میں شہید نہ ہوتے تو حق زندہ نہ ہوتا، اور اگر خواتین شام نہ جاتیں تو حق کی وہ آواز دنیا تک نہ پہنچتی۔ جنابِ زینبؑ نے اپنی زبان سے وہ کام کیا جو امام حسینؑ نے اپنی تلوار اور خون سے کیا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا، کربلا رہ جاتی اگر زینبؑ نہ ہوتیں۔

اس موضوع کو مزید گہرائی اور مذہبی مثالوں کے ساتھ سمجھنے کے لیے ہمیں اس الٰہی منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا، جسے علماء "حسینی و زینبی مشن" کا نام دیتے ہیں۔

یہاں اس عظیم راز کی مزید تفصیلات اور مذہبی مثالیں پیش ہیں:

1. مشیتِ الٰہی اور نبوی پیشگوئی

روایات میں ملتا ہے کہ جب امام حسینؑ مکہ سے نکل رہے تھے، تو لوگوں نے پوچھا کہ آپ عورتوں اور بچوں کو ساتھ کیوں لے جا رہے ہیں؟ امامؑ نے جواب دیا کہ میں نے خواب میں اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا:

"إنَّ اللهَ شاءَ أنْ يَراكَ قَتيلاً... وإنَّ اللهَ شاءَ أنْ يَراهُنَّ سَبايا"

(بے شک اللہ نے چاہا ہے کہ تمہیں مقتول دیکھے اور اللہ نے چاہا ہے کہ ان خواتین کو اسیر دیکھے)۔

مذہبی مثال: یہاں لفظ "شاء" (چاہا) سے مراد یہ نہیں کہ اللہ ظلم پر راضی تھا، بلکہ یہ ایک تزویراتی ضرورت تھی۔ اگر خواتین ساتھ نہ ہوتیں، تو یزید اس جنگ کو صحرا کی ریت میں دفن کر دیتا۔ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اسلام کی بقا کے لیے "خون" بھی دیا جائے اور اس خون کی "حفاظت" کے لیے "اسیری" کا راستہ بھی اختیار کیا جائے۔

2. شام میں امام سجادؑ کا خطبہ: حق کی پہچان

یزید نے شام میں یہ تاثر دے رکھا تھا کہ یہ لوگ دین سے خارج ہونے والے (باغی) ہیں۔ مسجدِ اموی میں جب امام سجادؑ کو منبر پر جانے کا موقع ملا، تو آپؑ نے وہ تاریخی خطبہ دیا جس نے پورے شام کی فضا بدل دی۔

مثال: امامؑ نے یہ نہیں کہا کہ "میں علی کا بیٹا ہوں" بلکہ آپؑ نے وہ رشتے جتائے جنہیں شامی جھٹلا نہیں سکتے تھے۔ آپؑ نے فرمایا: "میں اس کا بیٹا ہوں جس نے مکہ و منیٰ کی بنیاد رکھی، میں اس کا بیٹا ہوں جس نے معراج کی..."

نتیجہ: اس مذہبی دلیل نے لوگوں کو جھنجھوڑ دیا کہ جنہیں ہم باغی سمجھ رہے تھے، وہ تو خود "قرآن کے وارث" ہیں۔ اگر مرد شہید نہ ہوتے تو امام سجادؑ کو یہ موقع نہ ملتا، اور اگر امام سجادؑ شام نہ پہنچتے تو لوگ یزید کو ہی خلیفہ برحق مانتے رہتے۔

3. جنابِ زینبؑ کا "جمالِ الٰہی" کا نظریہ

کربلا کے بعد جب دربارِ ابنِ زیاد (کوفہ) میں جنابِ زینبؑ سے پوچھا گیا کہ "تم نے اپنے بھائی کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا دیکھا؟" (مقصد توہین کرنا تھا)۔

مثال: بی بیؑ نے جواب دیا: "مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلاً" (میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا)۔

تشریح: یہ ایک بلند ترین مذہبی مقام ہے۔ بی بیؑ نے شہادت اور اسیری کو "خوبصورتی" قرار دیا کیونکہ یہ اللہ کی راہ میں تھا۔ یہ جملہ آج بھی ہر مظلوم کے لیے ہمت کا ذریعہ ہے۔ اگر خواتین شام نہ جاتیں، تو دنیا کو کبھی پتہ نہ چلتا کہ "رضائے الٰہی" پر راضی رہنے کا اصل مطلب کیا ہے۔

4. بنو امیہ کے سیاسی اسلام کا خاتمہ

بنو امیہ کا اسلام "زبردستی اور ملوکیت" کا اسلام تھا۔ امام حسینؑ نے اپنے مردوں کی قربانی دے کر یہ ثابت کیا کہ حق تعداد سے نہیں بلکہ اصولوں سے پہچانا جاتا ہے۔

مثال: شام کے سفر کے دوران مختلف مقامات (جیسے حلب اور مشہد الحسین) پر معجزات اور بی بی زینبؑ کی استقامت نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ حق کہاں ہے۔ یزید نے سمجھا تھا کہ وہ خاندانِ رسولؑ کو ذلیل کر رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ خود ذلیل ہو رہا تھا۔ جس شام میں علیؑ کو برا بھلا کہنا رواج تھا، اسی شام میں جنابِ زینبؑ کے قدم پڑتے ہی علیؑ کے نام کے ڈنکے بجنے لگے۔

5. کربلا کا "میڈیا" اور "پبلک ریلیشنز"

آج کے دور میں ہم جسے میڈیا کہتے ہیں، اس دور میں وہ کام "قافلہِ اسراء" (قیدیوں کے قافلے) نے کیا۔

حرم مقدس حسینی کے حوالے سے اگر آپ دیکھیں، تو آج جو لاکھوں لوگ وہاں جاتے ہیں، یہ اسی "سفرِ شام" کا نتیجہ ہے جس نے کربلا کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچایا۔