شیخ عبد المہدی الکربلائی کے خطاب کا اقتباس: ہم متبادل نہیں بلکہ ریاست کے مددگار ہیں

"میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا محرکات اور اسباب ہیں جو ہمیں ایک مذہبی ادارہ ہونے کے ناطے ان کاموں کی طرف لے کر گئے؟ حالانکہ ہماری بنیادی ذمہ داری اور وظائف تو دینی امور اور حرم مقدس حسینی سے متعلق ہیں۔ اس کے جواب میں میں کہوں گا:

یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے جسے ہمیں سمجھنے اور اس کی اہمیت کو جاننے کی ضرورت ہے، خواہ وہ سماجی زندگی ہو یا دیگر شعبے جہاں انسان سرگرمِ عمل ہے۔ تعاون، باہمی دست گیری اور سماجی یکجہتی (تکافل) زندگی میں کامیابی اور ترقی کا بنیادی اصول ہے۔ اگر تمام متعلقہ فریقین اور حرم مقدس حسینی کے ذمہ داران کے درمیان یہ تعاون اور یکجہتی نہ ہوتی تو ہم آج اس نتیجے (کامیابی) تک نہ پہنچ پاتے۔ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس پر ہمیں بھروسہ کرنا چاہیے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

جب ہم نے 2003 کے بعد عراق میں صحت اور تعلیم کی صورتحال کا جائزہ لیا، تو ہمیں ان میدانوں میں ایک بڑا خلا اور پسماندگی نظر آئی۔ پھر جب ہمیں دیگر فریقین کی شراکت داری سے ایسے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت میسر آئی، تو ہم نے سوچا کہ ہمیں اس میدان میں قدم رکھنا چاہیے تاکہ ہم ایک معاون اور قوتِ بازو بن سکیں۔

میں اس بات پر دوبارہ زور دیتا ہوں کہ ہم ہرگز ریاستی اداروں کا متبادل نہیں ہیں۔ ریاست اپنی جگہ ان شعبوں میں کوششیں کر رہی ہے، ہم تو درحقیقت ایک مددگار بن کر اس قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور صحت و تعلیم کے معیار کو اس سطح تک لے جانا چاہتے ہیں جہاں دیگر ترقی یافتہ ممالک پہنچ چکے ہیں۔ عراقی فرد انتہائی ذہین اور بڑی صلاحیتوں کا مالک ہے، اور ہمارا مقصد انہی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ان عالمی معیارات تک پہنچنا اور تخصصی اداروں کا ہاتھ بٹانا ہے۔

اس کے علاوہ، ہم نے عراقی مریضوں کی تکالیف کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اعلیٰ مذہبی قیادت (مرجعیتِ عالیہ) کے دفتر کے ذریعے ہم مریضوں اور غریبوں کی مدد کرتے رہے ہیں، اور اس دوران ہم نے عراقی مریضوں کی شدید مشکلات کا مشاہدہ کیا، خاص طور پر مالی اخراجات کے حوالے سے۔ کینسر جیسے امراض میں ہم نے دیکھا کہ بہت سے مریضوں نے بیرونِ ملک علاج کروانے کے لیے اپنے گھر تک بیچ دیے، اس کے علاوہ انہیں جس نفسیاتی اذیت سے گزرنا پڑتا تھا وہ الگ ہے۔ چنانچہ ہم نے عزم کیا کہ ماہرین اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے اس میدان میں داخل ہوں (تاکہ اپنے عوام کی خدمت کر سکیں)۔"