حرم مقدس حسینی کے ہسپتالوں کی عالمی منظوری (JCI) محض ایک سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ عراق کی طبی تاریخ کا ایک درخشاں سنگِ میل ہے: ڈاکٹر حیدر العابدی

حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حرم مقدس حسینی کے ہسپتالوں کی جانب سے "جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل" (JCI) کی عالمی منظوری حاصل کرنا محض دیوار پر سجانے والی ایک سند نہیں، بلکہ ان اداروں کے سفر میں ایک "روشن موڑ" ہے۔

یہ بات انہوں نے ہیلتھ اتھارٹی سے وابستہ کینسر کے علاج کے عالمی ادارے "مؤسسہ وارث" کی اس عالمی کامیابی کے جشن کے موقع پر کہی۔ اس تقریب میں مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے (شیخ عبد المہدی الکربلائی)، حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متعدد اراکین نے شرکت کی۔

ڈاکٹر حیدر العابدی کے خطاب کے اہم نکات:

ایک تاریخی لمحہ

انہوں نے کہا کہ "ہم اس وقت ایک ایسے تاریخی لمحے میں جمع ہیں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پورے عراق اور خطے کے لیے اہم ہے۔ عالمی منظوری کا حصول برسوں کی مسلسل محنت، پختہ عزم اور اس یقین کا نتیجہ ہے کہ ہمارے مریض اور ہمارا معاشرہ بہترین طبی سہولیات کے مستحق ہیں۔"

عالمی معیار کا عہد

ڈاکٹر العابدی نے وضاحت کی کہ "یہ کامیابی دنیا کے سامنے اس بات کا واضح اعلان ہے کہ عراق ایسی طبی اور تعلیمی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو دنیا کے بہترین مراکز کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چیلنجز ارادوں کو نہیں روک سکتے اور ہم معیار کو بلند ترین سطح تک لے جانے کے اہل ہیں۔"

مریض کی سلامتی اور اطمینان

انہوں نے مزید کہا کہ "JCI معیار کا ہر نکتہ بنیادی طور پر مریض کی سلامتی، اس کی فلاح اور طبی تجربے کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ یہ منظوری معاشرے کے لیے ایک پیغام ہے کہ آپ کی صحت محفوظ ہاتھوں میں ہے اور یہاں عالمی سطح کے حفاظتی اور پیشہ ورانہ اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔"

کام کے کلچر میں تبدیلی

ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے ادارے کے اندر کام کی ثقافت کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب ہم روایتی طریقوں کے بجائے شواہد ، مسلسل جائزے اور نتائج کی پیمائش پر مبنی ادارہ بن چکے ہیں جو ہر روز کچھ نیا سیکھتا اور ترقی کرتا ہے۔"

انسانیت کی خدمت اور علمی ترقی

انہوں نے اسے ہر عراقی کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ "یہ حرم مقدس حسینی کے نعرے 'انسانیت کی خدمت' کی عملی تشریح ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذہبی ادارے ایمان اور ترقی کو جدا کیے بغیر سائنسی اور انتظامی میدان میں صفِ اول کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔"

مستقبل کا عزم

آخر میں انہوں نے کہا کہ "یہ کامیابی منزل نہیں بلکہ آغاز ہے۔ یہ سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے اور زیادہ چیلنجنگ مرحلے کی ابتدا ہے۔ ہم ان معیارات کو برقرار رکھنے، دیگر طبی اداروں میں 'کوالٹی کلچر' کو عام کرنے اور طبی تعلیم و تربیت کے لیے ایک علاقائی مرکز بننے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔"