اعلیٰ مذہبی قیادت (مرجعیتِ عالیہ) کے نمائندے شیخ عبد المہدی الکربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حرم مقدس حسینی کے منصوبے انسان کی تعمیر اور اس کی خدمت کے حوالے سے اپنی شرعی اور انسانی ذمہ داریوں کے تحت شروع کیے جاتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جامعہ وارث الانبیاء (علیہ السلام) کی کونسل سے ملاقات کے دوران کہی، جہاں یونیورسٹی کو متعدد مقامی اور عالمی درجہ بندیوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل جناب حسن رشید جواد العبائچی اور مجلسِ انتظام کے متعدد اراکین بھی موجود تھے۔
مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے نے کہا کہ "حرم مقدس حسینی کے تعلیمی، صحت اور خدماتی منصوبے انسان کی تعمیر اور خدمت کی شرعی اور انسانی ذمہ داری کے احساس کے تحت وجود میں آئے ہیں۔" انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "یہ منصوبے تجارتی یا سرمایہ کاری کے لیے نہیں ہیں، بلکہ بنیادی طور پر خدماتی ہیں جن کا مقصد انسان کی علمی، اخلاقی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔"
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "حرم مقدس حسینی سے وابستہ جامعات اور ہسپتال چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور عراق کے مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، بالخصوص ان مشکل حالات کے بعد جن سے ملک گزرا ہے۔" انہوں نے اشارہ کیا کہ "حرم مقدس حسینی کے منصوبے ٹھوس اعلیٰ تعلیم اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں ریاستی اداروں کے لیے ایک مددگار اور معاون ثابت ہوئے ہیں۔"
شیخ الکربلائی نے مزید کہا کہ "ان منصوبوں کی کامیابی نیت کی پاکیزگی اور کام میں اخلاص سے وابستہ ہے۔ غیر منافع بخش مقاصد اور کامیاب قیادت وہ بنیادی عناصر ہیں جنہوں نے معیاری کامیابیاں حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، باوجود اس کے کہ بعض تعلیمی اور طبی ادارے ابھی نئے قائم ہوئے ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ "حرم مقدس حسینی سے وابستہ جامعات نے مقامی درجہ بندیوں اور مقابلوں میں اعلیٰ مقامات حاصل کیے ہیں، جبکہ اب ہمارا ہدف عالمی سطح کی درجہ بندیوں تک پہنچنا ہے۔ عزائم کی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے، اور کامیابی کے ساتھ عاجزی اور کوششوں کی قدردانی ہونی چاہیے، نہ کہ فخر یا بڑائی کا اظہار۔"
واضح رہے کہ حرم مقدس حسینی، مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے شیخ عبد المہدی الکربلائی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے عوامی خدمت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں متعدد منصوبے نافذ کر رہا ہے۔
