حرم مقدس حسینی کی جانب سے عراق میں اپنی نوعیت کے پہلے طبی آپریشن کی کامیابی کا اعلان

حرم مقدس حسینی کے ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی سے وابستہ وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار اونکولوجی نے عراق میں اپنی نوعیت کے پہلے جدید طبی طریقہ کار کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ یہ عمل اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ (EUS) کی رہنمائی میں معدے سے چھوٹی آنت تک خوراک کا راستہ تبدیل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ: "حرم مقدس حسینی کی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی کے زیرِ انتظام وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار اونکولوجی کے طبی عملے نے، کسی بھی روایتی جراحی (سرجری) کی ضرورت کے بغیر، اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ کا استعمال کرتے ہوئے معدے سے چھوٹی آنت تک خوراک کا راستہ منتقل کرنے کا عراق میں پہلا جدید طبی آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔"

بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ: "یہ طریقہ کار ٹیومر (رسولیوں) کے نتیجے میں معدے یا چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ایک متبادل اور محفوظ راستہ بنایا جاتا ہے جو خوراک کو قدرتی طور پر گزرنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے طبی پیچیدگیوں میں کمی آتی ہے، صحت یابی کی مدت تیز ہوتی ہے اور اوپن سرجری کے مقابلے میں مریض کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔"

مزید برآں بتایا گیا کہ: "اس قسم کا طریقہ کار انتہائی حساس اور اعلیٰ درجے کی مہارت طلب طبی تکنیکوں میں شمار ہوتا ہے، جو عالمی سطح پر صرف چند جدید طبی مراکز میں ہی انجام دیا جاتا ہے۔ یہ کامیابی وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی ٹیم کی اعلیٰ طبی و تکنیکی قابلیت اور عالمی معیارات کے مطابق جدید ترین انفراسٹرکچر اور آلات کی دستیابی کی عکاسی کرتی ہے۔"

یہ کامیابی وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار اونکولوجی کے عزم اور حرم مقدس حسینی کی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی کے تعاون کا ثبوت ہے کہ وہ عراق میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق جدید طبی نگہداشت فراہم کریں اور خصوصی علاج کے دائرہ کار کو وسعت دیں، تاکہ مریضوں کی بہتر خدمت ہو سکے اور قومی طبی صلاحیتوں پر اعتماد مزید مستحکم ہو۔