حرم مقدس حسینی کی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے وارث سینٹر برائے اسمارٹ مصنوعی اعضاء اور طبی بحالی نے سال 2025 کے دوران فراہم کردہ خدمات کے اعدادوشمار کا اعلان کیا ہے۔
مرکز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجینئر حیدر محمد القرینی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "وارث سینٹر برائے اسمارٹ مصنوعی اعضاء اور طبی بحالی نے رواں سال (2025) کے دوران کربلائے معلیٰ میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں (525) ایسے افراد کا استقبال کیا جو اپنے اعضاء سے محروم تھے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "حرم مقدس حسینی نے اعلیٰ دینی قیادت (مرجعیت) کے نمائندے شیخ عبد المہدی الکربلائی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے (120) مستفیدین کو اسمارٹ اور مکینیکل مصنوعی اعضاء کی فراہمی کی فیس میں رعایت دی یا مکمل چھوٹ فراہم کی۔" انہوں نے وضاحت کی کہ "نصب کیے گئے نئے مصنوعی اعضاء کی تعداد تقریباً (193) تھی، جبکہ باقی کیسز دیکھ بھال (مینٹیننس) پر مشتمل تھے جن کی تعداد (332) رہی۔"
انہوں نے بتایا کہ "دی گئی مالی رعایتوں کا حجم (63,225,000) دینار تک پہنچ گیا، جبکہ مکمل مالی معافی کی کل رقم (36,475,000) دینار رہی۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "مرکز میں لگائے گئے تمام مصنوعی اعضاء، اس صنعت میں مہارت رکھنے والے عالمی ذرائع (ممالک) جیسے برطانیہ، فرانس اور جاپان سے حاصل کیے گئے ہیں۔"
وارث سینٹر برائے اسمارٹ مصنوعی اعضاء اور طبی بحالی ان صف اول کے خصوصی مراکز میں سے ایک ہے جسے حرم مقدس حسینی نے اپنے انسانی اور طبی وژن کے تحت قائم کیا ہے۔ اس کا مقصد اعضاء سے محروم افراد کی مدد کرنا اور انہیں اپنی نقل و حرکت کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنے اور معاشرے میں شامل ہونے کے قابل بنانا ہے۔ یہ مرکز اسمارٹ اور مکینیکل مصنوعی اعضاء کی تیاری اور تنصیب کے ساتھ ساتھ طبی بحالی اور فزیوتھراپی کے پروگرام بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام خدمات جدید ترین ٹیکنالوجی اور عالمی معیارات پر مبنی ہیں اور ماہر طبی و انجینئرنگ عملے کی نگرانی میں انجام دی جاتی ہیں، جو کہ ضرورت مند طبقوں کی دیکھ بھال اور ان پر مالی بوجھ کم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ دینی قیادت کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔
