مرجعیت اعلیٰ کے نمائندے کا قرآنی میڈیا کو پیشہ ورانہ اور پرکشش بنانے پر زور

مرجعیت اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبد المہدی الکربلائی نے میڈیا کی سرگرمیوں کو فنی اور پیشہ ورانہ خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ مومنین کی توجہ قرآن کریم کی جانب مبذول کرانے، انہیں درست طریقے سے تلاوت کرنے اور حفظ کرنے کی ترغیب دینے کا بنیادی مقصد حاصل ہو سکے، اور قرآنی مواد کو پرکشش اور دلنشین انداز میں پیش کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حرم مقدس حسینی کے شعبہ بین الاقوامی تبلیغ قرآن کے زیر اہتمام منعقدہ قرآنک یونین کے میڈیا کورس کے شرکاء سے ملاقات کے دوران کیا۔

مرجعیت دینیہ اعلیٰ کے نمائندے نے کہا، "ہم قرآن کریم اور اس کے میڈیا کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ میڈیا کے میدان میں ایک واضح وژن موجود ہو جو اہداف کا تعین کرے، چاہے اس کا تعلق مذہب کے پیروکاروں سے ہو یا عام طور پر عالم اسلام اور مسلمانوں سے۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ "یہ انتہائی اہم ہے کہ قرآنی میڈیا پیشہ ورانہ مہارت اور اثر انگیزی کا حامل ہو، تاکہ وہ لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنے اور انہیں قرآن کریم کی جانب راغب کرے۔ الحمد للہ، عراق میں قرآنی سرگرمیوں اور حفظ کے حوالے سے ایک ممتاز صورتحال موجود ہے، جہاں حرم مقدس اور دیگر اداروں میں بڑی تعداد میں حفاظ موجود ہیں۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ "حفظ، تلاوت، قرات اور قرآنی کتب کی طباعت پر توجہ دینا ایک بہت بڑا کام ہے، لیکن اصل چیلنج میڈیا کے ذریعے پرکشش انداز میں لوگوں پر مثبت اثر ڈالنا ہے۔"

شیخ کربلائی نے مزید کہا کہ "پیشہ ورانہ میڈیا پرکشش ہوتا ہے اور سوشل میڈیا و دیگر ذرائع سے تیزی سے پھیل سکتا ہے، تاکہ حفظ، تلاوت اور مختلف مقابلوں میں مذہب کے پیروکاروں کی دلچسپی کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ مقابلے اور قرآنی صلاحیتیں اس انداز میں سامنے آنی چاہئیں جو ہمارے معیار کے شایان شان ہوں اور حفظ و تلاوت میں ہماری برتری کو نمایاں کریں، تاکہ ملک کے اندر اور باہر کے لوگ قرآن کریم سے ہماری وابستگی کو دیکھ سکیں۔"

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ "اب اہم ترین امر قرآن کریم سے دلچسپی رکھنے والے مومنین کی تعداد میں اضافہ کرنا اور خاندانوں کی رہنمائی کرنا ہے کہ وہ قرآن کو محض ثواب یا اللہ کے قرب کے لیے پڑھنے کے بجائے اسے ایک 'ضابطہ حیات' (منہجِ زندگی) کے طور پر اپنائیں۔ قرآن کریم کے ساتھ ہمارا تعلق اسے کتابِ ہدایت سمجھنے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جو روزمرہ کی زندگی میں قرآنی اصولوں کے نفاذ کا باعث بنے۔"