حرم مقدس حسینی سے وابستہ امام زین العابدین (ع) اسپتال نے مصر کے ایک طبی وفد کا استقبال کیا، جس کی سربراہی پروفیسر عمرو احمد عبد العال کر رہے تھے۔ وفد نے اسپتال کی طبی صلاحیتوں، جدید آلات و سازوسامان اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا، نیز مستقبل میں جگر کی پیوندکاری کے آپریشنز انجام دینے کے لیے درکار تیاریوں کا معائنہ کیا۔
اسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دورے کے دوران دستیاب طبی سہولیات، جدید آلات اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ جگر کی پیوندکاری کے لیے ایک مکمل طبی ماحول فراہم کرنے کی ضروریات اور تیاریوں سے بھی آگاہی حاصل کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کے پیچیدہ اور تخصصی آپریشنز کے لیے طبی ماہرین کے تجربے، تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان مکمل ہم آہنگی ضروری ہے۔
اسپتال نے مزید بتایا کہ مصری طبی وفد کا یہ دورہ جگر کی پیوندکاری جیسے تخصصی شعبے میں کام کرنے کے تقاضوں کو سمجھنے اور جدید طبی خدمات کی ترقی سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کا ایک اہم موقع ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں جگر کی پیوندکاری کے آپریشنز شروع کرنے کے لیے ضروری وسائل اور سہولیات کی فراہمی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بیان کے مطابق، یہ دورہ طبی تعاون کو مضبوط بنانے، تخصصی تجربات کے تبادلے اور اعضا کی پیوندکاری کے شعبے میں طبی تجربات سے استفادہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور اسپتال میں جدید تخصصی علاج کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
یہ اقدام حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد اس کے زیرِ انتظام طبی اداروں کو ترقی دینا، ان کی طبی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور مریضوں کی ضروریات کے مطابق جدید علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے، بالخصوص ان شعبوں میں جہاں انتہائی مہارت اور جدید آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ امام زین العابدین (ع) اسپتال اس سے قبل عراق میں جگر کی پیوندکاری کے بیک وقت دو آپریشنز کامیابی سے انجام دے چکا ہے۔ یہ اہم طبی کامیابی پیچیدہ اور جدید جراحی کے شعبے میں اسپتال کی ترقی یافتہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔
