نمائندۂ مرجعیتِ اعلیٰ کی عراقی صلاحیتوں کو مقامی و بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع دینے اور اسکول سے اعلیٰ تعلیم تک ان کی سرپرستی کی اپیل

حرم مقدس حسینی کے صحن میں منعقدہ ’’اولوالالباب‘‘ پروگرام میں اعلیٰ مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے تدریسی عملے اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی تکریم کے دوران طلبہ کی صلاحیتوں کی سرپرستی اور انہیں معاشرے کی ضروریات کے مطابق تعلیمی و تخصصی شعبوں کی جانب رہنمائی کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: ’’ہم حرم مقدس حسینی کے شعبۂ تعلیم و تربیت اور شعبۂ انسانی وسائل کی ترقی کے برادران کی ان کوششوں پر شکریہ اور قدر دانی کرتے ہیں جو انہوں نے صلاحیتوں کو دریافت کرنے، ان کی قدر کرنے اور ان کی سرپرستی کے لیے انجام دی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان صلاحیتوں کو درست سمت میں بروئے کار لایا جائے گا۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی کہ ’’اولوالالباب‘‘ کا عنوان ایک قرآنی تصور سے تعلق رکھتا ہے، جس سے مراد ایسے صاحبانِ عقل ہیں جو اپنی صلاحیتوں، استعداد اور قابلیت کو درست اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ انسان کی تخلیق کے مقصد، اس کی ابتدا و انجام اور اس زندگی کی نوعیت کے بارے میں غور کریں جو انہیں گزارنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عنوان محض ایک ایسا غلاف ہے جو معنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جبکہ اصل اہمیت مضمون، حقیقت اور مقصد کی ہے۔ علم اور معرفت کو بذاتِ خود مقصد نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں درست عمل اور علم کے صحیح استعمال تک پہنچنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔

شیخ کربلائی نے کہا کہ باصلاحیت افراد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ذہانت، صلاحیتیں اور مواہب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، اور ان نعمتوں کا حقیقی شکر یہ ہے کہ انہیں خیر اور معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس سلسلے میں اسکول اور ان اداروں کا کردار اہم ہے جو ایسی صلاحیتوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقت اور عمر کو بہترین انداز میں بروئے کار لانا اور طلبہ کی صلاحیتوں کی سرپرستی اسکول سے لے کر یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم تک مسلسل جاری رہنی چاہیے۔ ساتھ ہی طلبہ کو ان تخصصات کی طرف رہنمائی دی جائے جن کی معاشرے کو ضرورت ہے، بالخصوص جدید علوم کی جانب۔

انہوں نے معاشرے میں موجود بعض تصورات کو تبدیل کرنے کی ضرورت کی طرف بھی اشارہ کیا، جن کے باعث عموماً اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو چند مخصوص شعبوں کی طرف جانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب ایک اہم اور مطلوب شعبہ ہے، تاہم معاشرے کی علمی، معرفتی اور تکنیکی ترقی اور خود انحصاری کے لیے مختلف جدید علوم پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صلاحیتوں کی سرپرستی ایک مسلسل عمل ہونا چاہیے جو صرف مقابلے کے مرحلے تک محدود نہ رہے، بلکہ مناسب کالج اور یونیورسٹی کے انتخاب، اعلیٰ تعلیم کے مراحل میں طلبہ کی معاونت اور بالآخر ان کے تخصص کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کرنے تک جاری رہے، تاکہ وہ اپنے علم اور مہارتوں کو درست جگہ پر استعمال کرسکیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ علم کو عملی اثر میں تبدیل کرنے کے لیے سوچنے کا ایک درست طریقہ درکار ہے، جو معلومات اور علم سے شروع ہو کر ان کے تجزیے، تفصیل سے سمجھنے، عناصر کی شناخت، درستگی اور گہرائی تک پہنچنے، پھر دلائل و شواہد کی بنیاد پر صحیح نتیجہ اخذ کرنے اور بالآخر عملی نفاذ و تطبیق تک جاتا ہے۔

شیخ کربلائی نے غیر دریافت شدہ صلاحیتوں کو تلاش کرنے، ان کی نوعیت متعین کرنے اور انہیں علمی طور پر درست سمت میں استعمال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ ان سے عملی نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

انہوں نے مقامی اور بین الاقوامی مقابلوں میں طلبہ کی شرکت کو وسعت دینے اور عراقی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کی دعوت دی۔ ساتھ ہی عراقی شناخت اور وابستگی کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک ہونے والی شرکتوں سے طلبہ کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر اجاگر کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔

منسلکات