تفاعلی و تربیتی سرگرمیاں.. حرم مقدس حسینی کے شعبہ امورِ دینی کی جانب سے زیارتِ اربعین کے موقع پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگراموں کا آغاز

حرم مقدس حسینی کے شعبہ امورِ دینی نے زیارتِ اربعینِ امام حسین (علیہ السلام) کے اپنے خصوصی منصوبے کے تحت نوجوانوں اور بچوں کے لیے تعلیمی وانٹرایکٹوسرگرمیوں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد جدید تعلیمی طریقوں کے ذریعے ان کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنا اور مذہبی و اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔

شعبے کے 'خاندان اور بچے کے یونٹ' کے ذمہ دار سید منتظر الحدید نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ: "حرم مقدس حسینی کے شعبہ امورِ دینی نے زیارتِ اربعینِ امام حسین (علیہ السلام) کے اپنے منصوبے کے تحت نوجوانوں اور بچوں کے لیے متنوع تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، تاکہ جدید سائنسی اور تعلیمی طریقوں کے ذریعے ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کی افزائش اور دینی و اخلاقی اقدار کو استوار کیا جا سکے۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ: "یہ پروگرام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے کیونکہ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ستون ہیں،" انہوں نے مزید بتایا کہ "ان تمام سرگرمیوں کو ایک ایسے تعلیمی و تفاعلی ماحول کی فراہمی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو علم اور تفریح دونوں کا احاطہ کرتا ہے، تاکہ اسلامی اصولوں کو راسخ کرنے اور شرکاء کی مہارتوں کو نکھارنے میں مدد مل سکے۔"

ان کا کہنا تھا کہ: "اس پروگرام میں ایک کٹھ پتلی تھیٹرشامل کیا گیا ہے جو غیر محسوس اور دلچسپ انداز میں تربیتی و آگاہی کے پیغامات منتقل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ثقافتی و تفاعلی مقابلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں جو بچوں میں سوچ بچار اور مثبت مقابلے کی فضا پیدا کرتے ہیں، جبکہ تمام شرکاء میں حوصلہ افزا تحائف بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔"

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ: "ان سرگرمیوں کے دوران متعدد فعال سماجی شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے جو بچوں کی رہنمائی اور تربیتی نشستوں کے ساتھ ساتھ اپنے مثبت اور مقصدیت سے بھرپور حیاتین تجربات کا اشتراک کر رہے ہیں، تاکہ بچوں میں مثبت رویے اپنانے اور اپنی شخصیت کو نکھارنے کا جذبہ پیدا ہو سکے۔"

سید منتظر الحدید نے مزید اشارہ کیا کہ: "شعبے نے سانحہ کربلا (واقعہ طف) کی تمثیل و محاکات کے لیے ورچوئل ریلیٹی (VR) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، تاکہ شرکاء کو جدید اور معاصر انداز میں ایک ایسا تفاعلی تجربہ فراہم کیا جا سکے جو ان کا تعلوقِ حسینی مزید مضبوط کرے۔ علاوہ ازیں، مائیکروفون پر بچوں کو سورة الفاتحہ کی تلاوت کی ترغیب دینے کے خصوصی سیشنز بھی رکھے گئے ہیں، جہاں ان کی قرآنی غلطیوں کی اصلاح ایک محبت بھرے تربیتی انداز میں کی جاتی ہے تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو اور عوامی سطح پر بولنے کا جھجھک دور ہو سکے۔"

منسلکات