زیارتِ اربعین 2026: شعبہ ترقیِ انسانی وسائل کی جانب سے جدید انٹرایکٹو پروگراموں کا آغاز

حرم مقدس حسینی کے شعبہ ترقیِ انسانی وسائل نے زیارتِ اربعینِ امام حسین (علیہ السلام) کے لیے اپنے مخصوص منصوبے کے تحت مختلف ثقافتی، فکری اور تعاملی پروگراموں اور سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، تاکہ فکری و علمی شعور کو فروغ دیا جا سکے، حسینی اقدار کو راسخ کیا جا سکے اور زیارت کے اثرات کو معاشرے میں ایک پائیدار عملی رویے میں ڈھالا جا سکے۔

ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ مسٹر محمد الکنانی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "حرم مقدس حسینی کے شعبہ ترقیِ انسانی وسائل نے زیارتِ اربعینِ امام حسین (علیہ السلام) کے منصوبے کے تحت مختلف ثقافتی، فکری اور انٹرایکٹو پروگراموں کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد علمی آگاهی کو بڑھانا، حسینی اقدار کو مضبوط کرنا اور زیارت کے اثر کو معاشرے میں پائیدار عملی سلوک میں تبدیل کرنا ہے"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "اس منصوبے میں زیارتِ اربعین کے دوران ورسٹائل ثقافتی و فکری پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔ رواں سال زائرین کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اہل بیت (علیہم السلام) کی ثقافت کو عام کرنے کے لیے حرم مقدس حسینی کے اہداف کے مطابق کئی سرگرمیوں کو جدید اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "اس منصوبے میں حرم مقدس حسینی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے 12 سے 15 صفر کی مدّت کے دوران زائرین کی آراء جانچنے کے لیے میدانی اور الیکٹرانک سروے کا انعقاد شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجف اشرف، بابل اور بغداد کے اہم راستوں پر زائرین کے لیے ثقافتی و فکری مراکز کا قیام جاری ہے، جو اس ڈیپارٹمنٹ کے نمایاں سالانہ پروگراموں میں سے ایک ہے"۔

ان کا کہنا تھا کہ "یہ شعبہ ورچوئل ریلیٹی (VR) ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی پیش کرے گا جو واقعہ کربلا (واقعۃ الطف) کے واقعات کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ زائرین کے دلوں میں جذباتی و فکری وابستگی کو گہرا کیا جا سکے اور امام حسین اور ان کے اہل بیت (علیہم السلام) کی قربانیوں کو یاد کیا جا سکے، اس کے علاوہ مبارک سیرت، قرآن کریم، عام معلومات اور قومی شناخت پر مبنی علمی مقابلے بھی شامل ہیں"۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ "اس شعبے نے پچھلے سالوں میں استعمال ہونے والے 20 ماڈلز کے بجائے 10 جامع اور مرکوز فکری و ثقافتی ماڈلز کو اپنا کر مواد کو مزید بہتر بنایا ہے، تاکہ زائرین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے اور اہم ترین موضوعات پر توجہ مرکوز کی جا سکے"۔

انہوں نے بتایا کہ "منصوبے میں کئی جدید تعاملی (انٹرایکٹو) اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں 'شجرہ اقدارِ حسینی' (حسینی اقدار کا درخت) بھی شامل ہے، جو زائر کو اس قدر (value) کو منتخب کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس کی معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت ہے، جبکہ زیارت کے اختتام کے بعد بھی اس پر قائم رہنے اور اسے عملی رویے میں تبدیل کرنے کا عہد لیا جاتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نئے اقدامات میں 'پاسپورٹِ زائرِ حسینی' (جواز الزائر الحسینی) بھی شامل ہے۔ یہ ایک تعاملی پروگرام ہے جس میں زائر ثقافتی مرکز کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کرنے پر مہریں حاصل کرتا ہے، اور زیارت کے بعد ایک الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے کسی ایک سماجی قدر پر عمل کرنے کے اپنے عزم کو درج کرواتا ہے، جس سے زیارت کے تربیتی اثرات کی پائیداری کو تقویت ملتی ہے"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "اس شعبے نے دیگر مخصوص پروگرام بھی تیار کیے ہیں، جیسے 'توبہ نامہ' جس کا مقصد خود احتسابی کی ثقافت کو فروغ دینا ہے، اور 'امام حسین (علیہ السلام) کے نام خط' جو زائر کو اپنے جذبات اور عقیدت کا اظہار کرنے کا موقع دیتا ہے، اس کے علاوہ 'زیارت کے بعد' کا کارڈ جو زائر کو ایک معاشرتی قدر کو اپنا کر اپنے ماحول میں حسینی اقدار کا سفیر بننے کی ترغیب دیتا ہے"۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ "یہ سرگرمیاں کربلا معلیٰ کے داخلہ راستوں پر قائم حرم مقدس حسینی کے ثقافتی مراکز میں انجام دی جا رہی ہیں، جو 2013 سے مسلسل قائم کیے جا رہے ہیں اور جنہیں عراقی و غیر ملکی زائرین کی جانب سے زبردست پذیرائی ملتی ہے۔ ان میں سے متعدد پروگرام عربی، انگریزی اور فارسی زبانوں میں دستیاب ہیں تاکہ مختلف اقوام و زبانوں تک امام حسین (علیہ السلام) کا انسانی پیغام پہنچایا جا سکے"۔

حرم مقدس حسینی کربلا معلیٰ کی جانب آنے والے اندرون و بیرونِ ملک کے زائرین کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنے تمام خدماتی، طبی، انجینئرنگ، تنظیمی اور میڈیا کے شعبوں و اداروں کو الرٹ رکھتے ہوئے، اور مختلف راستوں و سرحدی کراسنگز پر اپنے انسانی و لاجسٹک وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زیارتِ اربعین کے جامع منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ مناسکِ زیارت کی ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے اور اس ملین مارچ کی یاد کو پرامن و منظم ماحول میں منایا جا سکے۔