حرم مقدس حسینی کے شعبہ صحت اور طبی تعلیم کے سربراہ ڈاکٹر حیدر حمزة العابدی نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے سال 2029 تک دنیا کے جدید ترین جینیاتی علاج کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا کی بین الاقوامی کمپنی "CSL" کی جانب سے تیار کردہ یہ جدید علاج براہ راست جین تھراپی کی تکنیک پر مبنی ہے، جو جسم کے نظام کو خود بخود کلٹنگ فیکٹر پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ علاج فی الحال دنیا کا سب سے مہنگا علاج ہے جس کی ایک خوراک کی قیمت تقریباً 35 لاکھ (3.5 ملین) امریکی ڈالر ہے، تاہم اتنی زیادہ بین الاقوامی لاگت عراق کو اس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے سے نہیں روک سکے گی۔ اس علاج کے حصول کے لیے ابتدائی ٹائم ٹیبل کا تعین کیا گیا ہے تاکہ مقررہ مدت کے اندر مریضوں کی مکمل دیکھ بھال اور ان کی ضروریات کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل اور شعبہ صحت و طبی تعلیم کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد عراق میں خصوصی طبی خدمات کو بلند کرنا، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو علامات پر قابو پانے سے آگے بڑھا کر ایسے حتمی حل فراہم کرنا ہے جو مریضوں کی دائمی تکلیف کو ختم کریں اور علاج کے لیے بیرون ملک سفر کرنے کی ضرورت کو کم کریں۔
