موجودہ حالات ایک فعال کردار کے متقاضی ہیں، لبنانی اور ایرانی عوام کی مدد کرنا اور ان کی تکالیف کو کم کرنا ایک شرعی اور انسانی فریضہ

اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے شیخ عبدالمہدی الکربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حرم مقدس حسینی کو اس انسانی پکار پر لبیک کہنے میں ایک بہترین نمونہ بننا چاہیے۔ انہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کے خادموں اور مومنین پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی امداد اور لبنانی و ایرانی عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے حسبِ استطاعت اپنا حصہ ڈالیں۔ یہ بات انہوں نے ہال آف آنرز میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کہی جس میں حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل جناب حسن رشید جواد العبایحی، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین اور مختلف محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔

اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے نے کہا کہ "نمازِ عید کے خطبے میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایمان عمل اور ہمدردی کا نام ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "موجودہ حالات اور ان میں بڑھتے ہوئے بحران اور تکالیف، لبنانی اور ایرانی عوام کے متاثرین کو امداد اور تعاون فراہم کرنے کا ایک شرعی اور انسانی فریضہ عائد کرتے ہیں۔"

انہوں نے واضح کیا کہ "حرم مقدس حسینی نے ایک وسیع امدادی مہم کی تیاری کے ذریعے اس فریضے کو عملی جامہ پہنانے میں پہل کی ہے۔" انہوں نے بتایا کہ "پہلی مہم آئندہ چند روز میں روانہ ہو گی، جس میں امدادی سامان سے لدے تقریباً (20) ٹرک شامل ہوں گے، جن میں (ایمبولینسیں، گاڑیاں، اور طبی آلات و سازوسامان) کے علاوہ روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء شامل ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اس مہم کی تیاریاں کئی روز قبل شروع کر دی گئی تھیں، جس میں بھرپور کوششیں کی گئیں اور متاثرین کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے (2 سے 3) ارب عراقی دینار کے درمیان رقم خرچ کی گئی ہے۔"

انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ "حرم مقدس حسینی کو اس انسانی پکار پر لبیک کہنے میں ایک نمونہ ہونا چاہیے، اور تمام خادمانِ امام حسین (علیہ السلام) اور مومنین پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی مدد اور ان کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے جو کچھ بھی ان کے بس میں ہو، اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ "یہ اقدام اعلیٰ دینی مرجعیت کی پکار پر لبیک کہنے، اور انسانی بحرانوں کے وقت باہمی تعاون اور یکجہتی کی اقدار کو عملی شکل دینے کے لیے ہے۔"