مرجعیت اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبد المہدی کربلائی نے تاکید کی ہے کہ دینی مرجعیت کا منہج ایک قومی منہج ہے، اور خدمت کے میدان کے علاوہ اس کا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے کربلا میں حرم مقدس حسینی کے زیر انتظام ’وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار آنکولوجی‘ میں سرجیکل روبوٹ اور موبائل پی ای ٹی اسکین (PET Scan) کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مرجعیت اعلیٰ کے نمائندے نے کہا کہ "ہمارے نزدیک مذہبی ادارے کے بنیادی فرائض میں انسان کے دین، فکر، ثقافت، معرفت، اخلاق، اقدار اور شعور کی حفاظت شامل ہے، اور یہ وہ مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے ہم کوشاں ہیں۔"
انہوں نے وضاحت کی کہ "عراق جن حالات سے گزر رہا ہے اور گزشتہ ادوار کے جو اثرات ہیں، ان کے پیش نظر ایک اہم اصول جس پر ہم کام کر رہے ہیں وہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور تکمیل ہے، تاکہ ہر ادارہ اپنی صلاحیت کے مطابق فرائض اور خدمات انجام دے، تاکہ انسان و معاشرے کی خدمت اور ان کی صلاحیتوں کی تعمیر کے مشترکہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔" انہوں نے بتایا کہ "انسان کی صلاحیتوں کی تعمیر دو بنیادی ستونوں پر منحصر ہے: ایک طرف علم، معرفت اور شعور، اور دوسری طرف صحت کا شعبہ اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "موجودہ وقت میں اداروں کی ذمہ داریاں دوگنی ہو گئی ہیں، اور ریاستی ادارے اپنے دستیاب وسائل کے مطابق کام کر رہے ہیں۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "مذہبی کردار ایک بنیادی حصہ ہے، لیکن یہ صرف روحانی پہلو تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں وہ بنیادی انسانی فرائض بھی شامل ہیں جو انسان کو اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں، جن میں تعلیم، تربیت اور صحت کا شعبہ سرفہرست ہے۔"
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "جب ہمیں صحت کے شعبے میں موقع ملا تو ہم نے انسانی زندگی کے لیے اہم اور سنگین معاملات پر تحقیق شروع کی۔ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ہماری سب سے زیادہ توجہ کینسر ہسپتال (مستشفیٰ الاورام) پر کیوں ہے؟ ہمارا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ صرف انسانی زندگی کے لیے اس بیماری کی سنگینی نہیں ہے، بلکہ مریض اور اس کے خاندان کی تکلیف اور وہ بھاری مالی اخراجات بھی ہیں جو مریض اور اس کے اہل خانہ برداشت کرتے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "دیگر شعبہ جات بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، جن میں امراض قلب کا ہسپتال، جگر کی پیوند کاری کا ہسپتال، پٹھوں کی بیماریوں، دماغی فالج (Cerebral Palsy)، آٹزم اور خون کی بیماریوں کے مراکز شامل ہیں۔"
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ "حرم مقدس حسینی خود کو ریاستی اداروں کا متبادل نہیں سمجھتا، بلکہ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر تکمیلی معیاری خدمات فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دینی مرجعیت کا منہج ہے کیونکہ یہ ایک قومی منہج ہے اور خدمت کے علاوہ اس کے کوئی اور مقاصد نہیں ہیں۔"
انہوں نے نشاندہی کی کہ "عراقی ماہرین طبی اور غیر طبی شعبوں میں اعلیٰ اور ممتاز صلاحیتیں رکھتے ہیں، اور کسی بھی قومی صلاحیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ عراق میں ایسے نمایاں افراد موجود ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت کو واضح طور پر ثابت کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ملک سے باہر کے ماہرین اور صلاحیتوں سے بھی مدد لیتے ہیں، کیونکہ ملک جن حالات سے گزرا ہے ان کی وجہ سے بعض شعبوں میں جدید سطح تک پہنچنا ممکن نہیں رہا تھا، تاکہ مقامی اداروں کو نئے تجربات فراہم کیے جا سکیں جو اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ترقی دینے اور قومی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوں۔"
