حرم مقدس حسینی کے سیکرٹری جنرل حسن رشید جواد العبایجی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جامعہ وارث الانبیاء (علیہ السلام) میں طالبات کے ہاسٹل کی عمارت کا افتتاح، تعمیر و ترقی اور بحالی کے ان منصوبوں میں ایک نیا سنگِ میل ہے جنہیں حرم مقدس حسینی کی جنرل سیکرٹریٹ نے اپنے ذمے لیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب کے دوران کہا: ”اس منصوبے کے بے شمار فوائد اور خصوصیات ہیں، جن میں مکمل تحفظ کی فراہمی، ذہنی سکون اور طالبات کے لیے سازگار تعلیمی ماحول پیدا کرنا شامل ہے، جس سے طالبات میں تخلیقی صلاحیتوں، نمایاں کارکردگی اور تعلیمی برتری کا نیا جذبہ پیدا ہوگا۔“
انہوں نے مزید کہا: ”ملکی سطح پر ہاسٹلز کے منصوبوں میں یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے، جس میں گھریلو ضروریات کی تمام تر سہولیات، آرام و آسائش اور تعلیمی ماحول کے جملہ تقاضے مہیا کیے گئے ہیں۔“
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ”اگر متولی شرعی (دام عزہ) کی خصوصی توجہ و سرپرستی، جامعہ وارث الانبیاء کی انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں کی مسلسل نگرانی اور ایگزیکٹو کمپنی کا بھرپور تعاون نہ ہوتا، تو یہ عظیم منصوبہ مکمل نہ ہو پاتا۔“
انہوں نے اشارہ کیا کہ ”حرم مقدس حسینی اور یونیورسٹی انتظامیہ انشاء اللہ مزید نئے منصوبوں پر کام کریں گے، کیونکہ حرم مقدس حسینی کی خدمات اور عطاء کا دائرہ لامحدود ہے اور انشاء اللہ کبھی رکے گا نہیں،“ انہوں نے واضح کیا کہ ”ہاسٹل کے ان منصوبوں کا مقصد ہمارے عزیز طلبہ کا خصوصی خیال رکھنا ہے، بالخصوص ان طالبات کا جو دوسرے صوبوں سے یہاں پڑھنے آتی ہیں۔“
انہوں نے طلبہ سے ”نظم و ضبط، پابندی اور شرعی احکامات پر عمل پیرا ہونے“ کی اپیل کرتے ہوئے تاکید کی کہ ”یہ حرم مقدس حسینی کی اہم ترین ہدایات میں سے ہیں جن پر خاص زور دیا جاتا ہے، جن میں عفت و پاکدامنی، پردہ، نمازوں کی پابندی اور تلاوتِ قرآن شامل ہیں، نیز اس عظیم اثاثے کی دیکھ بھال، حفاظت اور اس کی املاک کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔“
انہوں نے بتایا: ”انجینئرنگ کے تخمینوں کے مطابق اس ہاسٹل کی گنجائش 600 طالبات کی ہے، جو 160 کمروں پر مشتمل ہے، جہاں گھریلو سہولیات، بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ و آمدورفت کی سہولیات موجود ہیں۔“
انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ہاسٹل کے بعض حصے جامعہ وارث الانبیاء سے باہر کی طالبات کے لیے بھی مختص ہوں گے، جن کے اخراجات فراہم کردہ سہولیات، شاندار ماحول اور پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلے میں نہایت معمولی ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ ”حرم مقدس حسینی کا مقصد منافع کمانا نہیں ہے بلکہ فیس صرف کمپلیکس کے روزمرہ خدماتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے رکھی گئی ہے۔“
