مرجعیتِ عالیہ کے نمائندے: ذی قار اور دیگر صوبوں کے عوام ہمارے اپنے ہیں، ہمارا عزم ہے کہ کوئی مریض طبی نگہداشت کے حق سے محروم نہ رہے

اعلیٰ دینی قیادت کے نمائندے، شیخ عبد المہدی الکربلائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حرم مقدس حسینی مریضوں کی خدمت اور انہیں طبی سہولیات کی فراہمی—خصوصاً پسماندہ علاقوں میں—کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھتا ہے، اور ہمارے کام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ "کوئی بھی مریض طبی نگہداشت کے اپنے حق سے محروم نہ رہے۔" یہ بات انہوں نے صوبہ ذی قار کے ایک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہی۔

شیخ عبد المہدی الکربلائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: "آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی سب کو شفقت اور پدری نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور ہم اسی راستے پر گامزن ہیں۔ مرجعیت کے نمائندے شہریوں کی دیکھ بھال میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، اور یہ خدمت دراصل مرجعیتِ عالیہ کی سرپرستی ہی کا تسلسل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ: "سفیر امام حسین (علیہ السلام) سرجیکل ہسپتال کے برادران، جن میں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ شامل ہیں، شہریوں اور بالخصوص پسماندہ علاقوں کے مریضوں کی خدمت اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اور یہ تمام اقدامات حکومتی اداروں کے تعاون اور معاونت کے لیے بھی ہیں۔"

انہوں نے واضح کیا کہ: "اس عملے کا خاص وصف اعلیٰ طبی مہارت کے ساتھ ساتھ خدمت کا جذبہ، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور مریضوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کا برتاؤ ہے، جو کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نہایت اہم عنصر ہے۔ ہسپتال رقبے کے لحاظ سے اگرچہ محدود ہے لیکن اپنی خدمات اور کارکردگی کے اعتبار سے بہت بڑا ہے۔"

شیخ الکربلائی نے اشارہ کیا کہ: "ذی قار اور دیگر صوبوں کے عوام ہمارے اپنے ہیں، اور شہروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے، سب اس وطن کے شہری اور فرزند ہیں، تاہم پسماندہ اور محروم علاقوں کو زیادہ نگہداشت اور خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔"

انہوں نے یقین دلایا کہ: "حرم مقدس حسینی ان اضلاع اور علاقوں کی معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گا جنہیں زیادہ طبی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ وہاں صحت کی خدمات کا تسلسل برقرار رہے، اور یہ پالیسی حرم مقدس حسینی کے تمام طبی اداروں پر ان کے اختصاص اور وسائل کے مطابق لاگو ہوتی ہے۔"

شیخ الکربلائی نے زور دے کر کہا کہ: "ہمارا مقصد اور نصب العین یہ ہے کہ کوئی بھی مریض تشخیص اور علاج کے حوالے سے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے، خواہ اسے پیچیدہ و خصوصی سرجری کی ضرورت ہو یا دیگر خصوصی طبی خدمات کی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ: "حرم مقدس حسینی مریضوں کے علاج اور آپریشنز کے لیے ملکی اور غیر ملکی ماہر طبی عملے کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ طبی خدمات صرف ہمارے ہسپتالوں میں موجود سہولیات تک محدود نہیں ہیں؛ اگر کچھ مریضوں کو عراق سے باہر علاج کی ضرورت پیش آئے تو ہم کیس کی نوعیت کے مطابق تعاون اور اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ اصل ہدف تمام مریضوں کو مکمل طبی نگہداشت فراہم کرنا ہے۔"

اعلیٰ دینی قیادت کے نمائندے نے اپنے خطاب کے اختتام پر دہرایا کہ: "مریضوں کی خدمت اور ان کا علاج ایک انسانی ذمہ داری ہے، اور حرم مقدس حسینی شہریوں—بالخصوص بنیادی طبی سہولیات سے محروم علاقوں کے باسیوں—کو بہترین معیار کی طبی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔"