حرم مقدس حسینی سے وابستہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اتھارٹی نے تعلیمی سال (2026–2027) کے لیے "الثقلین ووکیشنل سیکنڈری اسکول فار گرلز" میں داخلہ فارموں کی مسلسل وصولی کا اعلان کیا ہے، جو کہ جدید تکنیکی ترقیات اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ خصوصی پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کرنے کے سلسلے کا حصہ ہے۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عباس الدعمی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: "اتھارٹی تعلیمی سال (2026–2027) کے لیے الثقلین ووکیشنل سیکنڈری اسکول فار گرلز میں داخلے کی درخواستیں وصول کر رہی ہے، جس کا مقصد طالبات کو خصوصی پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر جاب مارکیٹ اور جدید شعبہ جات کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔"
انہوں نے واضح کیا کہ داخلہ متعدد شعبوں اور برانچز میں دستیاب ہے، جن میں:
اپلائیڈ آرٹس برانچ: ڈیکوریشن آرٹ کمرشل برانچ: مالیاتی و بینکنگ سائنسز انڈسٹریل برانچ: طبی آلات ، لیزر سسٹمز کی دیکھ بھال ، ٹیلی کمیونیکیشن ، اور الیکٹرانکس و کنٹرول کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی برانچ: سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت (AI)، کمپیوٹر نیٹ ورکس، اور موبائل فون و لیپ ٹاپ ڈیوائسز، جو طالبات کو تیز رفتار تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ جدید پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ڈاکٹر عباس الدعمی نے مزید بتایا کہ داخلے کے لیے اہل عمر کا دائرہ کار (2004 تا 2012) کے دوران پیدا ہونے والی طالبات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے داخلے کی خواہشمند طالبات سے اسکول کا دورہ کرنے اور ضروری دستاویزات فراہم کرنے کی درخواست کی، جن میں اسکول سے تصدیق شدہ تیسری جماعتِ متوسطہ (Third Intermediate) کی اسناد/مارکس شیٹ، اسکول کا اسٹیٹس سرٹیفکیٹ (واقع حال)، پاسپورٹ سائز تصاویر، رہائشی شناختی کارڈ یا حالیہ تصدیق شدہ رہائشی لیٹر، اور دیگر خصوصی دستاویزات شامل ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ الثقلین ووکیشنل سیکنڈری اسکول فار گرلز ایک ایسا تعلیمی پلیٹ فارم ہے جو اکیڈمک تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو یکجا کرتا ہے، تاکہ طالبات عملی مہارتیں حاصل کر کے اپنے علمی اور عملی مستقبل کو، بالخصوص جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں، روشن بنا سکیں۔
یہ اقدام حرم مقدس حسینی کے تحت ٹیکنیکل ایجوکیشن اتھارٹی کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا اور طالبات کے لیے جدید تعلیمی راہیں کھولنا ہے، تاکہ وہ جاب مارکیٹ اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل مہارت سے لیس ہو سکیں۔
