حرم مقدس حسینی کے مرکزِ الہادی میں پٹھوں اور اعصاب کی بائیوپسی کے تمام مراحل کی سہولت فراہم کر دی گئی

حرم مقدس حسینی کے شعبہ صحت و طبی تعلیم سے وابستہ "مرکزِ الہادی برائے عضلاتی و اعصابی امراض" نے مرکز کے اندر ہی جدید عراقی ماہرین کے ذریعے پٹھوں اور اعصاب کی بائیوپسی (خزع العضلات والأعصاب) کے تمام ضروری آلات اور طبی طریقہ کار کی مکمل فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر صالح الجابری نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ: "مرکزِ الہادی میں اب پٹھوں اور اعصاب کی بائیوپسی کے تمام مراحل مکمل طور پر مقامی سطح پر انجام دیے جا رہے ہیں، جو کہ عراق کی سطح پر ایک معیاری طبی کامیابی ہے۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ: "مرکز اب اس نوعیت کے پیچیدہ آپریشنز کے لیے تمام ضروری سہولیات سے لیس ہو چکا ہے، جس میں ٹشو (Tissue) نکالنے سے لے کر حتمی رپورٹ جاری کرنے تک کے تمام مراحل شامل ہیں۔ اب نمونے ملک سے باہر بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی۔"

ڈاکٹر صالح نے مزید کہا کہ: "عراقی طبی عملہ اعلیٰ درجے کی تربیت اور مہارت کے مراحل سے گزر چکا ہے، جس کی بدولت یہ خصوصی آپریشنز اب مکمل طور پر مرکز کے اندر ہی ممکن ہو گئے ہیں۔"

انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ: "پٹھوں اور اعصاب کی بائیوپسی کا عمل عالمی سطح پر انتہائی مہنگا طبی طریقہ کار ہے، لیکن مرکز اسے بہت ہی کم لاگت میں فراہم کر رہا ہے۔ یہ حرم مقدس حسینی کے اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد مناسب قیمتوں پر اعلیٰ معیار کی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔"

ڈاکٹر الجابری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ترقی موجودہ چیلنجز سے نمٹنے میں مرکز اور شعبہ صحت کی مؤثر انتظامی صلاحیتوں کی عکاس ہے۔ آنے والے وقت میں ان آپریشنز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ مریضوں، خصوصاً ہنگامی صورتحال والے کیسز کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ حرم مقدس حسینی کا شعبہ صحت و طبی تعلیم ان اہم کامیابیوں کے ذریعے مقامی طبی شعبے کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور خصوصی طبی طریقہ کار کے لیے بیرون ملک پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔