حرم مقدس حسینی کے شعبہ فکری و ثقافتی امور نے بغداد انٹرنیشنل ایگزیبیشن گراؤنڈ میں منعقدہ چوتھے 'عین الحیاۃ' ثقافتی فیسٹیول میں بھرپور شرکت کی۔ اس فیسٹیول کا انعقاد 'مؤسسہ القبس برائے ثقافت و ترقی' کی جانب سے کیا گیا، جہاں اس شعبے کے اسٹال پر مذہبی مطبوعات، ماہرانہ اکیڈمک ریسرچ اور نوجوانوں و محققین کے لیے فکری اقدامات کا ایک متنوع گلدستہ پیش کیا گیا، جو مستند اقدار پر مبنی مذہبی و ثقافتی شعور کو پختہ کرنے میں معاون ہیں۔
شعبے کے سربراہ شیخ علی القرعاوی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ:
"حرم مقدس حسینی نے اپنے متعدد شعبہ جات کے ذریعے چوتھے 'عین الحیاۃ' ثقافتی فیسٹیول میں شرکت کی ہے۔ شعبہ فکری و ثقافتی امور نے کتاب میلے اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں میں اپنی بھرپور موجودگی درج کرائی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا:
"اس شرکت میں متنوع فکری و ثقافتی شہ پارے پیش کیے گئے، جن میں عقائد کے علوم پر مبنی خصوصی کتب کے علاوہ فنی و ثقافتی شعبوں سے متعلق مواد بھی شامل تھا۔ نیز، نئے ٹیلنٹ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کیے گئے، جن میں مصوری (پینٹنگ) کے میدان میں فنکاروں کو راغب کرنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں فکر، فن اور ثقافت کا ملاپ ہوتا ہے۔"
شیخ القرعاوی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ:
"شعبے نے اپنے علمی و تکنیکی منصوبوں کی بھی نمائش کی، جن میں ڈیجیٹل لائبریری شامل ہے جس میں محققین کے لیے 13 لاکھ سے زائد کتب دستیاب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ’السائل والمجیب‘ (سوال و جواب) پروجیکٹ بھی متعارف کرایا گیا، جو صارفین کو فقہی سوالات پوچھنے اور مستند ذرائع سے ان کے جوابات حاصل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ منصوبہ مزید نئے علمی پورٹلز کے اضافے کے لیے ابھی ترقیاتی مراحل میں ہے۔"
انہوں نے تاکید کی کہ:
"'عین الحیاۃ' فیسٹیول میں شرکت حرم مقدس حسینی کے اس مشن کا تسلسل ہے جس کا مقصد خالص محمدیؐ فکر کی ترویج اور کربلا کے علمی نور کو مختلف ثقافتی فورمز تک پہنچانا ہے، تاکہ اسلامی اصولوں اور اقدار سے لیس ایک باشعور نسل تیار کی جا سکے۔"
یہ شرکت حرم مقدس حسینی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ قومی ثقافتی منظر نامے میں اپنی علمی موجودگی کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایسا فکری مواد پیش کرنا ہے جو مدرسہ حسینی کی گہرائی کی عکاسی کرے اور مذہبی ادارے و معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان علمی رابطوں کے پل تعمیر کرے۔
