فناء مطلق یا مجرد موت

معارف اسلامیہ

2017-12-20

650 مشاہدہ

{کل من علیہا فان (26) ویبقی وجہ ربک ذوالجلال وَالاکرام } [الرحمن : 26، 27]

قرآن مجید میں آیت کریم میں آیا ہے

"جو کوئی زمین پر ہے  فنا ہونے والا ہے اور صرف  تیرے رب کی ذات جو عزت اور عظمت والی ہے باقی رہ جائیگی"

اس خبر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو مخلوقات روئے زمین  پر موجود ہے فنا ہونے والی ہے   کیا اس فناء سے مراد فناء مطلق ہے جس سےمراد کبھی نہ لوٹنا ہے ؟

ظاہراً  آیات قرآنیہ میں موجود  فناء سے مراد جسم کا حل ہوجانا اور اپنی اصل مٹی کی طرف لوٹ جاناہے ،نہ کہ مطلق فناء ہونا ہے  ۔

جبکہ فناء مطلق کی طرف اشارہ قرآن کریم کی آیت میں لفظ ہلاک کی صورت میں آیا ہے

 {کل شئی ھالک الا وجھہ } [القصص : 88

اس کے علاوہ دیگر آیات میں ہلاک بمعنیٰ فقط جسمانی طور پر مٹی کی طرف اور موت ہے

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے