دعاء - سمت حقیقی بہ عبادت الہیہ

معارف اسلامیہ

2017-12-23

460 مشاہدہ

دعاء کے لغوی معنی  ٰ کسی  کو  خاص مقصد کی جانب دعوت دینا یا بلانا ہے   جو کہ خصوصی طرز کلام اور اصوات پر مشتمل ہوجیسا کہ " میں نے فلاں کو دعوت پر اپنے پاس مدعو کیا "

شرعاً  اس کا معنیٰ بندہ خدا کا اپنے  رب سے طلب عنایت ہے اور طلب مدد ہے۔

حقیقت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور اظہار عاجزی اور قوت و عظمت کے روبرو  انکساری ہے یہی در حقیقت  عبودیت الہی ٰ کا صحیح راستہ ہے

قرآن کریم میں دعاء الہیہ   کا طریقہ بعض طریقوں میں ذکر ہوا  ہے

  1. عبادت:"اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادہ رکھتے ہیں (الکہف :28)
  2. طلب اور سوال کرنا:اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سےدعاء کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرونگا۔(غافر:60)
  3. استغاثہ: "ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنالاؤ ،تمہیں اختیار ہےکہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنےمددگاروں کو بھی بلالو

(البقرہ :23)

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے