روز قیامت اپنے فیصلہ کا آغاز خونریزیوں کے معاملہ سے کرے گا

منبر الجمعة

2019-11-30

21 مشاہدہ

23 ربیع الاول 1441ھ بمطابق 22 نومبر 2019ء کو نماز جمعہ صحن حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مقدس حسینی کے متولی علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کی امامت میں ادا کی گئی جس میں حالیہ تخریب کاریوں پر تنقید کرتے ہوئے پرامن مظاہرات پر زور دیا ۔
اعلی دینی قیادت نے گزشتہ جمعہ کو پرامن مظاہروں اور اصلاحات کے مطالبے کے حوالے سے اپنی موقف کو چند نقاط کے ضمن میں واضح کیا تھا، جن میں مظاہروں کے پرامن ہونے کی تاکید کی گئی تھی اور ان کے تشدد، تخریب کاری اور خونریزی سے پاک ہونے پہ زور دیا گیا تھا اور اسی طرح سیاسی قوتوں کو مظاہرین کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی بھی تاکید کی گئی تھی۔ دینی قیادت نے اپنے گزشتہ موقف اور اُس خطبہ میں بیان کردہ طریقہ کے مطابق انتخابی قوانین اور الیکشن کمیشن کی تکمیل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، کیونکہ یہ دونوں کام ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی راہ ہموار کریں گے۔
یہ وہ پیغام تھا جو آيت الله العظمى سيّد علی حسینی سيستانی (دام ظلّه الوارف) کے دفتر کی طرف سے آپ تک پہنچانے کے لیے ملا تھا۔
امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے اُس دستور حکومت یا عہد نامہ سے چند اقتباسات آپ کی سماعتوں کی نذر کرتے ہیں جو انھوں نے جناب مالک اشتر(رح) کو مصر کا گورنر تعینات کرتے ہوئے عطا فرمایا تھا۔
اس عہد نامہ میں مولا علیہ السلام فرماتے ہیں:
رعایا کے ساتھ مہربانی اور محبت و رحمت کو اپنے دل کا شعار بنا لو اور خبردار ان کے حق میں پھاڑ کھانے والے درندہ کے مثل نہ ہو جانا کہ انہیں کھا جانے ہی کو غنیمت سمجھنے لگے کیونکہ مخلوقات خدا کی دو قسمیں ہیں بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور بعض خلقت میں تمہارے جیسے بشر ہیں.
اور دیکھو صاحبانِ ضرورت کے لئے ایک وقت معین کر دو جس میں اپنے کو ان کے لئے فارغ کر لو اور ایک عمومی مجلس میں بیٹھو۔ اس خدا کے سامنے متوا ضع رہو جس نے پیدا کیا ہے او اپنے تمام نگہبان' پولیس ' فوج، اعوان وانصار سب کو فاصلے پر پاس بٹھا دو تاکہ بولنے والا آزادی سے بول سکے اور کسی طرح کی لکنت کا شکار نہ ہو کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے خود سُنا ہے کہ آپ نے بار بار فرمایا ہے کہ وہ امت پاکیزہ کردار نہیں ہو سکتی ہے جس میں کمزور کو آزادی کے ساتھ طاقتور سے اپنا حق لینے کا موقع نہ دیا جائے.
دیکھو خبردار۔ نا حق خون بہانے سے پرہیز کرنا کہ اس سے زیادہ عذاب الٰہی سے قریب تر اور پاداش کے اعتبار سے شدید تر اور نعمتوں کے زوال۔ زندگی کے خاتمہ کے لئے مناسب تر کوئی سبب نہیں ہے اور پروردگار روز قیامت اپنے فیصلہ کا آغاز خونریزیوں کے معاملہ سے کرے گا۔ لہٰذا خبر دار اپنی حکومت کا استحکام ناحق خونریزی کے ذریعہ نہ پیدا کرنا کہ یہ بات حکومت کو کمزور اور بے جان بنا دیتی ہے بلکہ تباہ کرکے دوسروں کی طرف منتقل کردیتی ہے اور تمھارے پاس نہ خدا کے سامنے اور نہ میرے سامنے عمدًا قتل کرنے کا کوئی عذر نہیں ہے اور اس میں زندگی کا قصاص بھی ثابت ہے۔ البتہ اگر دھوکہ سے اس غلطی میں مبتلا ہو جاؤ اور تمھارا تازیانہ، تلوار یا ہاتھ سزا دینے میں اپنی حد سے آگے بڑھ جائے کہ کبھی کبھی گھونسہ و غیرہ بھی قتل کا سبب بن جاتا ہے۔ تو خبردار تمھیں سلطنت کا غروراتنا او نچانہ بنادے کہ تم خون کے وارثوں کو ان کا حق خون بہا بھی ادا نہ کرو۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے