مقصد خروج امام حسین علیہ السلام اصلاح امت ہے

منبر الجمعة

2019-10-19

53 مشاہدہ

19صفر المظفر 1441ھ بمطابق 18/10/2019 نماز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مطہر حضرت عباس علیہ السلام کے متولی علامہ سید احمد الصافی کی امامت میں ادا کی گئی ۔

 زیارت اربعین کے بہت سے فوائد ہیں اور شاید ان میں سے ایک فائدہ اپنی معنویات کو بہتر بنانا اور خاص حالات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، کیونکہ صحیح نظریہ کے مطابق صحیح سوچ اچھے ثمرات دیتی ہے، سید الشہداء علیہ السلام ایک بہت بڑے اصلاحی منصوبہ کے مالک ہیں جیسا کہ انھوں نے فرمایا تھا: (میں سرکشی اور جدال و قتال کے ارادے سے نہیں نکل رہا ہوں اور نہ ہی میرا مقصد فساد پھیلانا یا کسی پر ظلم کرنا ہے بلکہ میں تو اپنے نانا کی اُمت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میری غرض فقط امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے نانا اور بابا کی پیروی ہے۔ پس جو کوئی اللہ کی خاطر میری دعوت قبول کرتا ہے تو اللہ کا حق سب پر فائق ہے اور جو میری دعوت کو قبول نہیں کرے گا تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ میرے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کرے اور اللہ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے)

امام حسین علیہ السلام نے مدد گاروں کی کمی اور امت کے ساتھ چھوڑنے کے باوجود جو کچھ حاصل کرنا چاہا وہ حاصل کرلیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اور ان کے ساتھی اپنے فرض سے بخوبی واقف تھے۔ ارشاد قدرت ہے: (کہہ دیجئے: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار، پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور پاکیزہ ہے اللہ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں)۔ بصیرت سے مراد دقیق ترین فہم وفراست اور ثابت قدمی ہے بلکہ بصیرت سے مراد امور کے نتائج، ہدف اور مقصد سمیت تمام اہم نکات اور گہرے التفاتات سے آگاہ ہونا ہے کہ جو ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔

ہم زیارت اربعین کے ایام کو الوداع کرنے کے قریب ہیں یا شاید اربعین کے ایام ہمیں الواع کہنے والے ہیں اس موقع پر ہم امید کرتے ہیں ہم نے امام حسین(ع) کے مبارک راستہ سچی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اس مناسبت کے احیاء کے ذریعے اپنی روحوں کا احیاء کیا، اور اپنے آپ کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کا موقع دیا ہے کہ ہم کیسے امام حسین(ع) کے ساتھ ممکنہ کمال کے درجات تک پہنچ سکتے ہیں۔

سید الشہداء(ع) سے حقیقی ولاء کا اظہار اور ان کی تعلیمات کو گہرائی سے سمجھنے کی سچی تعبیر اس بات کی ضامن ہے کہ ہمارے دل دھوکہ دہی، ظلم، منافرت اور دیگر غیر اخلاقی امور سے پاک ہوں۔

خدا تمام زائرین اور ہمارے ملک اور سب ملکوں کو ہر شر سے محفوظ رکھے، خدا ہر اس شخص کی حفاظت فرمائے جس نے بھی امنی، خدماتی ، طبی اور عزائی امور میں اس زیارت کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے