مثبت تنقید کی عدم قبولیت ایک معاشرتی مسئلہ

منبر الجمعة

2019-05-02

150 مشاہدہ

9 جمادی الثانی 1440ھ بمطابق 15 فروری 2019ء کو نماز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مقدس حسینی کے متولی علامہ شیخ عبد المہدی کربلائی کی امامت میں ادا کی گئی جس کے خطبے جمعہ میں مثبت تنقید کی عدم قبولیت پر روشنی ڈالی ۔

معاشرے میں ہر فرد کی اپنی اہمیت و حیثیت ہے قرآن کریم کے اصولوں پر کیسے عمل کرنا چاہیے اور کیسے مثبت تنقید اور مشورے لینے اور دینے چاہئیں۔
ہمارے رہنما اصولوں میں سے ایک خود کی تنقید جو کہ ثقافت کو اچھا پیش کرنے میں اہم ہے لوگ زندگی کے ہر پہلو میں کوئی نہ کوئی غلطی کرتے ہیں کبھی غلطی سادہ اور کبھی بہت سنگین بھی ہو جاتی ہے اور جب کہ یہ غلطی کسی علم والے شخص سے ہو تو بہت زیادہ اثر رکھتی ہے۔
قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث میں انسانی فطرت سے آگاہ کیا گیا ہے جس میں جہالت، قابلیت، دنیاوی خواہشات اور انسانوں کے دیگر عوامل ہیں اور یہ مسائل کبھی بڑی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ ’’سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں‘‘۔ 
لہٰذا لوگوں کی غلطیوں سے سیکھنے اور ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 
ایک آیت قرآنی کا مفہوم ہے مومن غلطیوں، گناہوں اور ناکامی کے تابع ہے اس لئے وہ ہر ایک کو امر بالمعروف نہی عن المنکر کرتا ہے اور اپنے اعمال کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
تنقید کی دو قسمیں ہیں: 1۔ خود پر تنقید 2۔ دوسروں پر تنقید 
تنقید غیر اخلاقی نہیں ہونی چاہیئے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچے بلکہ تنقید ہمیشہ مثبت انداز میں کرنی چاہیئے، ایک بندہ مومن اپنی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے اور ان غلطیوں سے بچتا ہے لہٰذا ہمیں اپنے طرز زندگی کا جائزہ لینا چاہیئے، کسی کو تنقید کرنے کے لئے صحیح جگہ اور صحیح وقت کا انتخاب کرنا چاہیئے، کسی بھی انسان کو لوگوں کے درمیان میں تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیئے کیونکہ یہ ذلت اور رسوائی کا باعث بنتا ہے، ہمیں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے اس واقعے سے بڑا سبق ملتا ہے کہ کیسے بہتر اور اچھے انداز میں کسی بڑے یا چھوٹے کو سمجھانا چاہیئے۔
امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کا بچپن تھا ایک دن آپ دونوں بھائی ایک راستہ سے گذرے تو دیکھا ایک بوڑھا شخص ہے جو وضو کر رہا ہے لیکن صحیح طریقہ سے نہیں کر رہا ہے ۔ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام نے سوچا اگر ہم اس بوڑھے شخص کو یہ نہ بتائیں کہ اس کا وضو صحیح نہیں ہے تو یہ ایسے ہی غلط وضو کرتا رہےگا اور کل خداوندعالم اس کے غلط وضو کے بارے میں ہم  سے حساب ہوگا ، اور اگر بتاتے ہیں تو کہیں یہ بوڑھا شخص ناراض نہ ہو جائے ، یا پھر وہ شرمندہ ہو کہ مجھے دو چھوٹے چھوٹے بچوں نے ٹوک دیا۔
اسی وقت امام حسن علیہ السلام نےاپنے بھائی امام حسین علیہ السلام نے کہا: چلو ہم لوگ وضو کے بارے میں بحث کرتے ہیں ، دونوں نے وضو کے بارے میں بحث شروع کی ، بوڑھے شخص نے دیکھا کہ دو بچے ہیں جو آپس میں بحث کر رہے ہیں، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا: بچوں! تم کیوں آپس میں بحث کر رہے ہو، امام حسن علیہ السلام نے جواب دیا ہم وضو کے بارے میں بحث کر رہے ہیں، اسی وقت امام حسین علیہ السلام نے کہا:چچا جان! ہم دونوں بھائی آپ کے سامنے وضو کرتے ہیں اور آپ بتائیں کہ کس کا وضو صحیح ہے۔
امام حسن اور امام حسین علیہما السلام وضو کرنے لگے اور جب وضو کر چکے تو اس بوڑھے شخص سے پوچھا: بتائیے کس کا وضو صحیح ہے؟
وہ بوڑھاشخص سمجھ چکا تھا کہ بچے ہمیں کیا سمجھانا چاہتے ہیں اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے اس نے کہا: بچوں! تم دونوں نے صحیح وضو کیا ہے میں ہی غلط وضو کر رہا تھا اب میں نے تم دونوں سے صحیح وضو کرنا سیکھ لیا ہے۔ تم دونوں نے مجھے بہت اچھے طریقہ سے صحیح وضو کرنا سیکھا دیا۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے