جو بھی باطل کی پشت پر سوار ہوتا ہے باطل اسے ندامت کے گھر میں لے جا کر اتارتا ہے

منبر الجمعة

2018-12-13

231 مشاہدہ

8 ربیع الاول 1440ھ بمطابق 16نومبر 2018ء کو نمازجمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مطہر حضرت عباس علیہ السلام کے متولی علامہ سید احمد صافی کی امامت میں ادا کی گئی جس کے خطبہ جمعہ میں علامہ احمد صافی نے صاحب مقتدر اشخاص کو اپنے باطل ارادوں سے باز رہنے کی تلقین کی ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں جو بھی باطل کی پشت پر سوار ہوتا ہے باطل اسے ندامت کے گھر میں لے جا کر اتارتا ہے۔
انسان جب بھی کسی گاڑی یا کسی چوپائے پر سوار ہو کر کہیں جاتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ سواری اسے مطلوبہ مقام پر لے جاتی ہے امام علیہ السلام اس محسوس مثال کے ذریعے مقام معرفت اور مقام حكمت و تصرّف میں ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ باطل ایک شواری کی مانند ہے جو انسان بھی اسے سواری قرار دیتے ہوئے اس کی پشت پر سوار ہو گا اسے یہ باطل کہاں جا کر اتارے گا؟ وہ اسے ندامت کے گھر میں لے جا کر اتارے گا۔ امام علیہ السلام کی یہ تعبیر مقام نصیحت میں دقیق ترین تعبیر ہے۔
یہ سیاسی گفتگو نہیں ہے لیکن امام علیہ السلام کا کلام حکمت و دانائی کے چشمہ سے پھوٹا ہے جس سے کسی سیاستدان، کسی قبائلی سردار، کسی یونیورسٹی یا سکول کے استاد، کسی ڈاکٹر، کسی عالم، کسی ان پڑھ .... کو استثناء حاصل نہیں ہے یہ ایک قاعدہ و اصول ہے کہ جو بھی باطل کی پشت پر سوار ہوتا ہے باطل اسے ندامت کے گھر میں لے جا کر اتارتا ہے چاہے وہ باطل شرعی ہو یا عرفی۔
عقلاء اپنے امور کو منظم کرنے کے لیے شریعت سے غیر متصادم قواعد وضع کرتے ہیں مثلاً ٹریفک کی سرخ روشنی پر رکنا سبز روشنی پر چلنا یہ سب عرفی قواعد ہیں اور ان کی مخالفت عرفی باطل ہے۔
انسان کے پاس چاہے کتنی ہی جسمانی و معنوی قوت اور جاہ و حکومت ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باطل پر سوار نہ ہو کیونکہ باطل کی پشت پر سواری اسے ہر صورت میں ندامت کے گھر لاتی ہے اور ناممکن ہے کہ باطل انسان کو سلامتی کے پاس لے جائے۔اگر آپ کا خیال ہے کہ کسی عرفی یا شرعی باطل کے ارتکاب کے وقت آپ کو کوئی دیکھ نہیں رہا تو یاد رکھیں کوئی بات ہمیشہ چھپی نہیں رہ سکتی۔
اللہ تعالی شرعی مخالفت کرنے والے کو سزا دینے کے لیے انسانوں والی جلدی نہیں کرتا کیونکہ اللہ کے عِقاب سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ عرفی حقوق و قواعد بھی اسی طرح ہیں جو بھی لوگوں کی خدمت کرنے کی جگہ آتا ہے جو بھی اپنے قبیلہ کی دیکھ بھال کرتا ہے اسے باطل پر سوار نہیں ہونا چاہیے بہت سی مثالیں ہیں جو دی جا سکتی ہیں جن کے مشابہ امور کو آپ ہر روز سنتے رہتے ہیں بہت سے خونی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جب سبب کے بارے میں بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے ناحق خون بہایا گیا عقل و دانائی سے کام کیوں نہیں لیا جاتا؟ کیوں باطل کا ارتکاب کیا جاتا ہے؟ کیوں سنی سنائی باتوں کو سچ سمجھ کر نام نہاد غیرت اور غصے کا شکار ہو کر باطل کی پشت پر سوار ہوا جاتا ہے اور بعد میں ندامت.... بچوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں اور پورے کے پورے خاندان کو خوفزدہ کرنا بعض کے نزدیک مردانگی اور بہادری ہے حالانکہ انتہائی بری ہے وہ مردانگی جو ظلم کرے انتہائی بری ہے وہ شجاعت جو خوفزدہ کرے کیونکہ یہ باطل کا ارتکاب اور باطل کی پشت پر سواری ہے۔
علامہ صافی نے مزید جن نکات پر گفتگو کی وہ مندرجہ ذیل ہیں
انسان کے پاس چاہے کتنی ہی جسمانی و معنوی قوت اور جاہ و حکومت ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باطل پر سوار نہ ہو
باطل کی پشت پر سواری اسے ندامت کے گھر لاتی ہے اور سلامتی سے دور کر دیتی ہے۔
-جو خدمات انجام دینے کے لیے یا اپنے قبیلے کی کفالت کے لئے خود کو پیش کرتا ہے اسے باطل کی پیٹھ کو سواری نہیں بنانا چاہیے۔
-انتہائی بری ہے وہ مردانگی جو ظلم کرے انتہائی بری ہے وہ شجاعت جو خوفزدہ کرے کیونکہ یہ باطل کا ارتکاب اور باطل کی پشت پر سواری ہے۔
-باطل کا سوار اپنے بارے میں بہتر جانتا ہے اسے خود غور و فکر کرنا چاہیے۔
-انسان کو چاہیے کہ دانائی سے خود کو متصف کرے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسا کام نہ کرے جس پر اسے بعد میں پچھتاوا اور ندامت ہو۔
-انسان کو عقل کے مطابق رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
-انسان کو عقل کا استعمال کرتے ہوئے ہر معاملہ میں غور و فکر کرنا چاہیے اور جلدبازی سے پرہیز کرنا چاہیے اسے حق کو سواری بنانا چاہیے نہ کہ باطل کو۔
-اپنے آپ کو عقلمند کہنا کافی نہیں ہے بلکہ دانائی سے کام لینا ضروری ہے۔
-انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال سے اپنا عقلمند ہونا ثابت کرے۔
-ندامت کا گھر آسان نہیں ہے اور نہ ہی ہر جگہ ندامت مداوا اور تدارک کا باعث بنتی ہے۔
-بعض اوقات ندامت مداوا نہیں کر سکتی اور انسانی عمر کا کوئی پتا نہیں ہے کب کہاں ختم ہو جائے۔
- انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تصرفات میں عقل مند، اعتدال پسند اور دانا بنے اور اسے غصہ اور کینہ ان امور کی طرف نہ لے کر جائے جن میں خون بہا دیا جاتا ہے۔
-انسان کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات سنے تو اس میں غور و فکر کرے اور صبر سے کام لے۔
-جلد بازی کے نتائج افسوس اور شرمندگی پر مشتمل ہوتے ہیں۔
-باطل کو سواری بنانے والا جب افسوس اور ندامت کے گھر میں اترے تو اسے صرف اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے