معاشرتی بے راہ رویوں کا علاج باہمی الفت : پیام حسینی

منبر الجمعة

2018-10-22

57 مشاہدہ

2 صفر 1440ھ بمطابق 12 اکتوبر 2018ء نماز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مقدس حسینی کے متولی علامہ شیخ عبد المہدی کربلائی کی امامت میں اداکی گئی جس میں معاشرے میں موجود بے راہ رویوں اور ان کے سدباب پر روشنی ڈالی ۔
ہم ابھی تک محرم اور صفر کے مہینہ میں ہیں لہٰذا ہم امام حسین علیہ السلام کی اصلاحی تحریک اور ان اہم اصلاحات کے بارے میں گفتگو کریں گے کہ جنہیں امام حسین علیہ السلام نے اپنے انقلاب، اصولوں، اپنی سیرت اور معاشرے کی اخلاقی تربیت کے ذریعے معرض وجود میں لانے کا فیصلہ کیا اور اسی طرح سے ہماری گفتگو ان امور پر مشتمل ہو گی کہ جن کا مطالبہ امام علیہ السلام نے ہم سے کیا ہے ۔


ہمارے معاشرے اور ہماری انفرادی شخصیت میں بعض خلل اور غلطیاں ہیں اور وہ سب اس سوال کے گرد گھومتی ہیں ہمارے نزدیک عملی اخلاقی تربیت کی کیا اہمیت ہے اور ہم اپنی روز مرہ زندگی میں اس پر کتنا عمل کرتے ہیں؟ ہمارے ہاں مختلف شعبوں میں عملی تعلیم موجود ہے اسی طرح سے اخلاقی اور تربیتی میدان میں بھی عملی کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے معاشرے میں اس وقت عملی اخلاقی تربیت کا مسئلہ انتہائی حساس اور خطرناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔
انسان کے پاس عقل، عملی طاقت، اقتصادی قوت سمیت بہت سے وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر ان صلاحیتوں اور وسائل کو کسی منظم اور اخلاقی طریقے سے استعمال نہ کیا جائے تو ہم اپنے حقیقی و انسانی اہداف کو حاصل نہیں کر سکتے کہ جو خوشحالی، سعادت، استقرار اور اپنے شعبہ میں تکامل و ترقی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے ایک فرد یا ایک معاشرہ ہونے کی حیثیت سے ہم اپنی ان صلاحیتوں اور وسائل کو کس طرح سے صحیح طریقہ سے استعمال کریں تاکہ ہم اپنے مذکورہ بالا اہداف کو حاصل کر سکیں؟
یہ اہداف صرف علم حاصل کرنے سے اور وسائل کو اپنے تسلط میں رکھنے سے حاصل نہیں ہوتے ہم دیکھتے ہیں بہت سے لوگوں کے پاس جدید علوم اور وسائل ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ معاشرے کے لیے بھلائی کا مصدر ہونے کی بجائے شر اور برائی کا منبہ و مصدر ہوتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ انسان فطرتی طور پر اجتماعی زندگی گزارتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اجتماعی، اقتصادی، سیاسی اور فکری تعلقات قائم کرتا ہے اگر ان حقائق کو اخلاقی و تربیتی بنیادوں پر استوار نہ کیا جائے تو یہ تعلقات منظم اور مستقر نہیں ہو پاتے لہٰذا ضروری ہے کہ ان تعلقات کو الفت، محبت اور تعاون کی بنیادوں پر استوار کیا جائے تا کہ انسان اپنے ہدف کو حاصل کر سکے ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسانی تعلقات دشمنی، نفرت ، اختلافات اور بغض میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو انسانی زندگی انتہائی برے بحران کا شکار ہو جاتی ہے لہٰذا اجتماعی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو ضوابط کے تحت قائم کیا جائے تاکہ ہم انفرادی اور معاشرتی زندگی کو ترقی دے سکیں۔ 
ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں گمراہی ، جھوٹ اور دھوکہ دہی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے اور اس گمراہی میں سب سے خطرناک چیز سیاسی، عقائدی اور میڈیا جھوٹ و غلط بیانی ہےملاوٹ، فریب کاری، موقع پرستی خیانت اور معمولی اسباب کی بنا پر قتل و تہجیر عام ہے عہدوں اور ووٹ کو پیسوں سے خریدا جا رہا ہے نوجوان طبقہ میں منحرفانہ اختلاط بہت زیادہ دیکھنے میں آرہا ہے عامی مقامات پر محافل اور پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس میں سب کے سامنے غیر اخلاقی حرکات اور منحرفانہ اختلاط پھیلتا جا رہا ہے ایک طرف اس قسم کی غیر اخلاقی باتیں عام ہو رہی ہیں اور دوسری طرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نظر نہیں آرہا بلکہ نیکی برائی شمار ہونے لگی ہے اور برائی نیکی شمار کی جا رہی ہے حق کو باطل اور باطل کو حق کہا جا رہا ہے اس ساری صورتحال کے باوجود ہمیں کوئی ایسی تحریک نظر نہیں آتی کہ جو ان خطرات کا تدارک کرے اس قسم کے امور کا پھیلاؤ اخلاقی تنزلی اور بلند اصولوں اور انسانی ضمیر کی موت کی طرف لے جا رہا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا ملک مالی اوراداری بدعنوانی کا بری طرح سے شکار ہے ہمارے نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے بہت سی اخلاقی برائیاں پھیل رہی ہیں شہری اپنے جائز معاملات اور کاموں کو کروانے کے لیے حکومتی اداروں میں رشوت دینے پر مجبور ہے ہمارے سکول کالج اور یونیورسٹیاں طلاب کی عملی اخلاقی تربیت کا کام نہیں کر رہی ہیں اکیڈمک تعلیم ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا ہونا بھی بہت ضروری ہے

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے