اعتماد طرفین ہی اصل میں خدمت حقیقی ہے

منبر الجمعة

2018-07-21

284 مشاہدہ

6ذی القعدہ 1439ھ بمطابق 20/7/2018 بروز جمعہ نماز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام کے صحن میں حرم مطہر حضرت عباس علیہ السلام کے متولی علامہ سیداحمد الصافی کی امامت میں ادا کی گئی۔

جب بھی کوئی انسان دوسرے انسان کی خدمت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے علم میں ہونا چاہئیے کہ خدمت کا عنوان جس کا وہ علم بردار ہے کسی بھی عاقل کے نزدیک وہی فعل ہے جس سے دیگران کی مدد ہو۔

اور بے شک جوں جوں خدمت کا دائرہ وسیع ہوتا جائیگا اور مستفید ہونے والے افراد اکثر ہوتے جائینگے کیونکہ اس ترقی کے پس پشت اس خدمت کے اجزاء جتنے اہم اور دقیق تر ہونگے ۔ 
آج میں خدمت کے اس مفھوم کو اپنا موضوع قرار دیتے ہوئے واضح کردینا چاہتا ہوں ان اشخاص کے لئے جو خدمت خلق کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ خدمت کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو میں کہوں گا کہ میں کسی خاص خدمت کی نہیں بلکہ میرا عنوان ہر طرح کی عمومی خدمات کے بارے میں ہے مثال کے طور پر طب کے میدان میں سہولیات فراہم کرنا، تعمیرات کی خدمات مہیا کرنا یا سیاسی میدان میں خدمات فراہم کرنا،پس جو مریضہ کی خدمت ، کسی بھی ادارے میں نوکری اور دیگر اہل وطن کی کسی طریقے سے خدمت کرنا ۔۔۔۔ ایسی عمومی خدمت موضوع کلام ہے

پس اگر کوئی شخص خدمت کا ارادہ کرے تو کون سے ایسے موارد ہیں جو اس کی کامیابی ہدف کے لئے ضروری ہیں؟

 تو کم از کم خدمت فراہم کرنے والے کے پاس چار امور کا موجود ہونا ضروری ہے:

امر اول:

 جوشخص خدمت کا ارادہ کرلیتا ہے تو اسے علم ہونا چاہئیے کہ کس چیز سے خدمت فراہم کرنا چاہئیے اور واضح معلومات کا علم ہونا چاہئیے کیونکہ ہر شخص ہر قسم کی سہولیات فراہم نہیں کرسکتا پس اسی لئے اپنی صلاحیات کے بارے میں علم ہونا چاہئیے ،کیونکہ بغیر طبی معلومات کے کوئی بھی شخص طبی سہولیات فراہم نہیں کرسکتا، کسی بھی طبقے کے انسان کی کوئی خدمت ممکن نہیں جب تک اپنی صلاحیات سے لاعلم ہو پس واجب ہے کہ اپنی صلاحیات کا علم ہونا چاہئیے ورنہ تمام کوششیں بے سود ہیں ۔۔

اور اپنے افعال کے بارے میں مکمل ذمہ داری اور علم ہونا چاہئیے تاکہ اپنے دعویٰ کے صحیح ہونے پر اثبات اور افعال کے دلائل بہم بہنچا سکے اور صادق ثابت کرسکے وگرنہ دیگر صورت میں خدمت خلق ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی فعل کا نام ہے ۔

یہ پہلا نقطہ ہے کہ اپنی صلاحیات اور سمت کا علم ہونا چاہئیے تاکہ مثبت نتائج حاصل ہوں ورنہ نفع کی بجائے نقصان کا باعث ہوگا۔

امر دوم:

اگر میں کسی میدان میں خدمات فراہم کرنا چاہتا ہوں تو مجھے اس کے لیے ایسے بہترین وسائل سے مدد حاصل کرنی چاہیے کہ جو مجھے حقیقی طور پر مطلوبہ میدان میں خدمت کرنے کے حوالے سے مددگار ثابت ہو سکیں، مثال کے طور پر اگر میں طبی میدان میں خدمات فراہم کرنا چاہتا ہوں تو میرے پاس خاص وسائل اور آلات کا ہونا ضروری ہے کہ جو اس حوالے سے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں اور اسی طرح خدمت کے مثبت نتائج کی صورت میں جید آراء بڑھتی چلی جائیں گی  ویسے ویسے مدد گار آلات اور وسائل کی ضرورت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ 

امر سوم:

جب میں کسی میدان میں خدمت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تو مجھے اس کے لیے وقت کی تعیین بھی کرنی ہو گی کیونکہ ہر کام کی تکمیل کے لیے ایک خاص وقت درکار ہوتا ہے اور اس کام کو اسی وقت کے اندر اندر مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے لہٰذا جو شخص کسی خاص میدان میں خدمت فراہم کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہدف کو اتنے وقت کے اندر اندر حاصل کرے کہ جس کا لوگوں کو فائدہ بھی ہو ۔
جیسا کہ ملاحظہ کریں ایک مرتبہ ایک شخص کسی صحراء سے گزر رہا تھا تو اس نے صحراء کے درمیان میں موجود کنویں سے کسی انسان کی آواز سنی کہ جو مدد کے لیے پکار رہا تھا اس گزرنے والے نے جب کنویں میں دیکھا تو وہاں ایک آدمی موجود تھا اس نے کہا کہ مجھے اس کنویں سے باہر نکالو۔ تو کنویں کے پاس کھڑے ہوئے ایک شخص نے جواب میں کہا: کیا تم اتنا صبر کر سکتے ہو کہ میں شہر سے جا کر رسی لے آؤں تا کہ اس کی مدد سے تمہیں باہر نکال سکوں۔ تو کنویں والے شخص نے کہا یہ اچھا سوال نہیں ہے کیونکہ میں صبر کروں یا نہ کروں میں تو کنویں میں ہی ہوں جاؤ اور جلدی سے رسی لے کر آؤ اور مجھے باہر نکالو۔ 
امر چہارم:
 ضروری ہے کہ خدمت کرنے والے اور جس کی خدمت کی جائے کا آپس میں اعتماد ضروری ہے مثلا اگر طبی لحاظ سے دس مریضوں کا علاج ہو تومرضاء کو معالج اور معالج کو مرضاء پر اعتماد رکھنا ضروری ہے تاکہ ایکدوسرے کی مدد کرسکیں۔
مطلوبہ خدمت طرفین کے درمیان اعتماد کا نام ہے اور یہی وہ امر ہے جو مزید خدمات کے راستے آسان کرتا ہے ۔۔۔ خدمت کرنا کوئی نعرہ نہیں ہے بلکہ خدمت کرنا ایک حقیقی امر ہے ۔۔۔۔خدمت عملی فعل ہے نعرہ نہیں
یہ وہ چار کم از کم امور تھے جن کا خدمت فراہم کرنے اور خادم ہونے کے لیے حقیقت میں موجود ہونا ضروری ہے۔
 

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے