عوامی مطالبات کو تسلیم اور پرامن مظاہرات کی توجیہ

منبر الجمعة

2018-07-16

338 مشاہدہ

28 شوال 1439ھ میں نماز جمعہ صحن حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مقدس حسینی کے متولی علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کی امامت میں ادا کی گئی خطبہ نماز جمعہ میں حالیا جاری احتجاجات کے موضوع پر گفتگو کی:

ان دنوں بصرہ اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں عوامی احتجاجات دیکھنے میں ہیں جس میں اہل وطن کی کثیر تعداد نے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر احتجاج کیا ہے جن میں بجلی کی قلت اور دوسری جانب موسمی درجہ حرارت میں غیر معمولی ارتفاع اور پینے کے پانی کی کمی بلکہ استعمال کے پانی کی کمی ہے جب کہ بےروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اور نوکریوں میں کمی اور مناسب نوکریوں کی عدم توفیر کے ساتھ بیماریاں بڑھنے کی صورت میں حفظان صحت کے لئے علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں ہیں ۔

اور ہمارے ان برادران کی آہ میں آہ ملانے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں کہ ان کے یہ مطالبات اور تنگدستیوں کی داستان میں راست گو ہیں اور ذمہ دار حضرات کی نااہلی ان بنیادی خدمات کی عدم فراہمی سے ثابت ہوتی ہے چاہے وہ گذشتہ ہوں یا حاضر ہوں حالانکہ مالی حالات میسر ہیں ۔ اور اگر مطلوبہ اداروں میں میرٹ کی بنیادوں پر نوکریاں فراہم کی جاتیں اور ذمہ داران حضرات کرپشن کے سامنے ڈٹ جاتے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

صوبہ بصرہ کا ملکی معیشت و اقتصاد میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی مانند کردار رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ملک و مقامات مقدسہ کے دفاع میں ہزاروں شہداء قربان کئے ہیں اور آج بھی سڑکوں پر موجود ہزاروں شہداء کی تصاویر آویزاں اس بات کاثبوت ہیں پس یہ ناانصافی ہے اور ناقابل قبول ہے کہ ایسا صوبہ جو ملکی حفاظت و ترقی میں اتنا اہم کردار کرے مگر اس صوبے کے رہائشی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا سامنا کریں اور مختلف اقسام کی وباؤں کے پھوٹنے کے باعث علاج کی سہولیات فراہم نہ ہوں اور تعلیمی اہلیت ہونے کے باوجود روزگار کے مواقع فراہم نہ کئے جائیں۔

مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور ان مسائل کو حل کریں اور جن مسائل کا فی الفور حل ممکن ہو انہیں جلد از جلد حل کیا جائے جبکہ دیگر مسائل کا اگر بتدریجی صورت میں حل ممکن ہو حل کیا جائے اور اس صورتحال میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ان سے ملکی وسائل میں تصرف کو مطلقا ممنوع قرار دیا جائے ، تجربہ کار اور مؤھل افراد سے استفادہ کیا جائے کیونکہ اہلیان صوبہ نے مختلف اوقات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخاب کے ذریعے عدم فائدے کا نتیجہ حاصل کرچکے ہیں اور حالات بد سے بدتر ہوتے گئے ہیں ۔

اور اہل وطن سے بھی گزارش ہے کہ پرامن مظاہرات کے طریقے کو اپنائیں اور تشدد پسند افراد کو اپنے پرامن مظاہرات میں جگہ نہ دیں کہ وہ آپ کے ذریعے حکومتی املاک، اموال عامہ کو نقصان پہنچائیں کیونکہ ایسی صورت میں ہونے والا نقصان سوائے عوام کے کسی کو نہ ہوگا۔

 

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے