توازن حیات انسانی از روئے قرآن کریم - علامہ سید احمد الصافی

منبر الجمعة

2018-06-25

335 مشاہدہ

7 شوال 1439ھ بمطابق 22جون 2018 ء بروز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مطہر حضرت عباس علیہ السلام کے متولی علامہ سید احمد صافی کی امامت میں ادا کی گئی جس کے دوسرے خطبہ جمعہ کا خلاصہ درج ذیل ہے

سورۃ فصلت کی تین آیات کریمہ عنوان موضوع ہیں جن کو بیان کر کے بعض فیوض سے مستفید ہوتے ہیں ۔
سورة فصلت میں اللہ تعالیٰ میں فرماتا ہے
انسان بھلائی کی دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتا ہے اور جب کوئی تکلیف اسے چھو بھی لیتی ہے تو بالکل مایوس اور بے آس ہوجاتا ہے۔
پھر اس کے بعد اللہ کا ارشاد ہے

 اور اگر ہم اس تکلیف کے بعد پھر اسے رحمت کا مزہ چکھادیں تو فورا یہ کہہ دے گا کہ یہ تو میرا حق ہے اور مجھے تو خیال بھی نہیں ہے کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں پروردگار کی طرف پلٹایا بھی گیا تو میرے لئے وہاں بھی نیکیاں ہی ہیں
اسی سورہ کے 51ویں آیت میں ارشاد قدرت ہے

 اور ہم جب انسان کو نعمت دیتے ہیں تو ہم سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور پہلو بدل کر الگ ہوجاتا ہے اور جب برائی پہنچ جاتی ہے تو خوب لمبی چوڑی رَعائیں کرنے لگتا ہے۔

ان آیات کریمہ میں جس قضیہ کا ذکر ہے وہ انسان کا متوازن حالت کو کھو دینا ہے انسان پہ کبھی کبھی بہت ہی سخت اور مشکل حالات آ جاتے ہیں اور کبھی انسان کشائش و خوشحالی سے لطف اندوز ہوتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے حالات میں بعض لوگ متوازن حالت کی طرف رجوع کر کے حقیقی استفادہ نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ فکر مند اور محتاط رہتا ہے اپنی شخصی مفادات سے محبت کرتا ہے اور ان مفادات کا مرتے دم تک دفاع کرتا ہے چاہے اسے دوسروں کو کتنی ہی تکلیف پہنچے۔
ہمارے سامنے اقتصادی پابندیوں کی ایک مثال موجود ہے جب کسی قوم یا معاشرے کو کسی سبب کے تحت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ  اللہ تعالیٰ سے  اس سے چھٹکارے کے لئے دعائیں کرتی ہے  اور اپنی قوت و صلاحیت کے مطابق پابندیوں کو ختم کروانے کے لیے جدو جہد کرتی رہتی  ہے۔اس دوران قناعت پسندی اختیار کر لیتی ہے فضول خرچی سے اجتناب کرتی ہے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس اقتصادی بائیکاٹ کو ختم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ لیکن جونہی اللہ تعالیٰ اس پر سے اقتصادی پابندیوں کو اٹھاتا ہے وہ بالکل ایسے ہی ہو جاتی ہے جیسے وہ پابندیوں سے پہلے تھی فضول اخراجات اس کا وطیرہ بن جاتے ہیں دوسروں کے لیے ہمدردی اس کے دل سے ختم ہو جاتی ہے اور ذاتی مفادات اس کی اولین ترجیح بن جاتی ہے۔

جب انسان کسی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اس سے چھٹکارے کے لیے دعائیں کرتا ہے علاج کرواتا ہے اور جونہی اللہ تعالیٰ اسے صحت مندی سے نوازتا ہے وہ ایک دو دن میں خدا کو پھر سے بھول جاتا ہے۔

اور جب کوئی انسان کسی وجہ سے قید و بند میں ہو  تو زمین پر اس کا چلنے ایسے تھا جیسا کہ لاثانی اور بے نظیر ہو ، یہاں تک کہ ظلم و تجاوز کو قانونی جانتا  ہو مگر جونہی قید و بند میں مبتلا ہو ا فورا اپنی اصل کی طرف لوٹ آیا  اور اخلاق و محبت و ایثار کا اعلیٰ مظہر قرار پایا مگر جونہی رہائی پائی فوراً اپنی سر کش حالت کی عادات  اپنا لیں ۔

جب جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا نے خطاب میں فرمایا" ڈرتے ہو کہ پرندے اڑا لے جائیں گے"

واقعاً اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے چاہے وہ عصر حاضر میں  غنی کیوں نہ ہو مگر ایک وقت وہ فقیر تھا اس اصلیت کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے ، کسی زمانے میں سیاسی طور پر مفرور تھا مگر اللہ تعالیٰ نے  قوت بخشی تو اصلیت فراموش نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو عطا کرتا ہے سلب بھی کرنے پر قادر ہے اور بے شک شکر کی ادائیگی پر نعمات کی بقاء ہے  ۔

انسان  کو چاہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس قول کی مانند کہ " بھلائی کی دعا کرتے ہوئے تھکتا نہیں مگر جب اسے کوئی برائی چھو جائے تو  رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے   "

اسی طرح انسان کو چاہیئے کہ خیر کی طلب میں  رکنا نہیں چاہیئے کیونکہ اس میں اس کی شخصی بھلائی ہے  مگر جونہی کسی جان لیوا مرض میں مبتلا ہوا یا قید و بند کی مصیبت آن پڑی تو فورا مایوس ہوگیا  ۔

جب ہم مصالح شخصی کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد عامہ ناس کی مصلحت مد نظر ہونی چاہیئے  نہ کہ اگر شخصی  مصلحت   سلامت ہے تو مصلحت عامہ بھی  بخیر ہے یہ نہ صرف ایک مرض ہے  بلکہ ایک انتہائی پست درجے تک کی مرض ہے  جس میں انسان اپنی مصلحت کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قول ہے " اور جو مصیبت اسے پہنچ سکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رھمت کا مزہ چکھائیں تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار ہی تھا اور میں تو خیال ہی نہیں کر سکتا کہ قیامت قائم ہوگی "

یہ دوسری قسم ہے جو کہ قدرے صنف اول سے مشابہت رکھتی ہے اور یہ فکر رکھنے والا اس چیز کا قائل ہے کہ "مجھے دیگران سے کیا لینا دینا؟ جاہ و عیش و سلطنت کے ساتھ رہنے والا ایسی فکر رکھتا ہے کہ مجھے دیگران کے غم و اندوہ سے کیا سروکار؟لیکن جونہی کسی امتحان دنیوی میں مبتلا ہوتا ہے تب فکر کرتا ہے کہ متوجہ ہونا چاہیئے ۔

ملاحظہ کریں ایسا متردد شخص اپنے سوا کسی کا قائل نہیں دیگران کا ہمدرد نہیں  یہی وہ توازن ہے جس پر فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ان آیات کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے  زندگی میں توازن کی کسوٹی بتائی ہے ہے کہ اگر ان پر عمل نہ کرے تو کہاں پہنچ جائے گا؟

واقعاًبرادران اس شخص کو دنیا کی طرف نظر کرنے کے لئے چشم بصیرت کی ضرورت ہے  بصیرت کے ساتھ جب نظر کرے گا تبھی وہ دیکھ پائے گا  کیونکہ عاقل جب اس دنیا کی طرف نظر کرے گا تو اسے عجیب و غریب پائے گا  کیونکہ اسے علم ہے کہ یہ دنیا فانی ہے  اسی لئے اپنی حد کا علم ہونا چاہیئے مگر مصیبت یہ ہے کہ   اپنی حد و حیثیت جاننا ہی نہیں چاہتے ۔

انسان کو چاہیئے کہ اپنی حیثیت کو فراموش نہ کرے تاکہ توازن قائم رہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے  اور اپنے بندگان سے مطلوب ہے  مگر وہ انسان جو سرکشی اختیار کرتا ہے اور کلام میں تکبرو غرور اختیار کرتا ہے اور  جونہی کوئی واقعہ دیکھتا ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگ جاتا ہے بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصلا اس راستے سے ہٹ چکا تھا ۔

حالت توازن انسان کے اندر مطلوب ہے اور یہ مثالیں غیر متوازن شخصیت کی ہیں  اور ایسی فکر جس میں انسان خود کے سوا کسی کی مصلحت کا قائل نہیں  اور ہر امور شخصی میں اپنی مصلحت بالائے طاق رکھتا ہے   اور دیگر مصالح جن میں خود کی تقصیر ہو تو دیگران کی تقصیر شمار کرتا ہے اور اگر خود صاحب کردار نہ ہو تو دیگران کی کردار کشی کرتا ہے اور یہ ایک مرضی حالت ہے اور انسان کو اس سے بالا عاقل ہونا چاہیئے ۔

 

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے