جو قوم اپنےشہداء کو بھلا دیتی ہے ناکام رہتی ہے

منبر الجمعة

2017-12-21

573 مشاہدہ

26 ربیع الاول 1439 ھ بمطابق 15 دسمبر 2017ء کو نماز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام کے متولی علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کی امامت میں صحن  حرم حسینی میں ادا کی گئی۔ 
خطبہ جمعہ  میں کچھ دن پہلے عراق کے آخری حصہ کو بھی داعش سے آزاد کرائے جانے اور داعش کے خلاف جنگ میں مکمل فتح کا اعلان کیا گیا اور اہل عراق کو مخاطب کرتے ہوئے  کہا کہ:
اے اصحاب شرف !اے اہل ِ عراق !تین سال سے زیادہ شدید ترین لڑائی، اپنی قیمتی سے قیمتی چیز قربان کرنے ، مختلف مشکلات اور مبارزہ سرائی  کا سامنا کرنے کے بعد طاقت ور ترین دہشت گرد تنظیم پر فتح حاصل کی ہے اس تنظیم نے عراق کے ماضی، حال اور مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے اسے اپناہدف بنایا اور آپ نے اپنے مضبوط ارادے اور اپنے وطن، اپنی عزت اور اپنے مقدسات کی حفاظت کے پختہ عزم کے ذریعے ان دہشت گردوں کو شکست دی آپ نے اپنی بے انتہاء قربانیوں کی ذریعے ان دہشت گردوں کو ناکام اور نامراد بنایا آپ نے اس مقصد کے لیے اپنی جانوں، اپنے جگر کے ٹکڑوں اور اپنی ملکیت میں ہر قیمتی چیز کو اس وطن پر فدا کر دیا آپ نے بہادری اور ایثار و قربانی کی اعلیٰ تصویر کھینچی اور جدید عراق کی تاریخ کو عزت اور کرامت کے الفاظ کے ساتھ درج کیا پوری دنیا آپ کے مضبوط ارادہ ، صبر ، ثابت قدمی اور پختہ ایمان پر حیران کھڑی ہے اور بالآخر آپ نے وہ عظیم فتح حاصل کی کہ جس کے بارے میں بہت سے لوگ گمان کر رہے تھے کہ اس کا حصول نا ممکن ہے لیکن آپ نے انتہائی کم مدت میں اسے حقیقت کا روپ دیا اور اس کے ذریعے سے آپ نے اپنے وطن کی عزت و ناموس اور عوام کو محفوظ بنایا اور یقنا ایک عظیم ترین قوم ہیں۔
مختلف عناوین اور اصناف میں داعش کے خلاف لڑنے والے محترم جنگجووں ،اورمسلح افواج جہاد و دفاعی کفائی کا فتوی دینے والی اعلی ٰ دینی قیادت نے اپنے ہر ممکن وسائل کے ذریعے داعش کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کی اور حوزہ علمیہ کے طلاب و اساتذہ میں سے اپنے نیک ترین بیٹوں کو آپ کی مدد کے لیے بھیجا اور ان میں سے سینکڑوں نے اسی راہ میں جام شہادت نوش کیا ۔  پس اگر فتویٰ جہاد پر آپ کی بروقت نداء لبیک  نہ ہوتی اور تین سال تک جاری اس حالت جنگ میں ثابت قدمی نہ ہوتی تو یہ فتح حاصل  نہ ہوتی۔

اس لیے یہ فتح آپ کی فتح ہے اور اس کا حصول بھی آپ ہی کی وجہ سے ممکن ہو پایا اور آپ ہی اصحاب فتح و نصرت ہیں لہٰذا میں آپ کو مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں بے شک بابرکت ہے آپ کا وجود اور آپ کے وہ بازو کہ جن کے ذریعے سے آپ نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی ، بے شک بابرکت ہیں وہ جھولیاں کہ جن میں آپ نے تربیت حاصل کی ، آپ نے پوری اقوام عالم میں ہمیں فخر اور عزت فراہم کی ۔
کتنا ہی خوش قسمت ہے عراق اور آپ کی بدولت ہم بھی کتنے خوش قسمت ہیں ..... آپ نے اپنی جانوں کو اپنے وطن اپنی عوام اور اپنے مقدسات کی خاطر قربانی کے لیے پیش کیا ہم آپ کی کاوشوں کی وجہ سے اپنے اوپر واجب ہونے والے حق کی مکمل ادائیگی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو اس کام کی بہترین جزاء عطا کرے گا، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ  آپ کو اپنی خیرو برکت سے مالا مال فرمائے اور آپ کو محسنین کی بہترین جزاء سے نوازے۔
آج مزید احترام و تعظیم کے ساتھ اپنے شھداء ابرار کا ذکر کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے پاکیزہ خون کی نہروں سے اس وطن کی سرزمین کو سیراب کیا بے شک یہی وہ افراد ہیں کہ جو ایثار و قربانی کا عظیم ترین نمونہ عمل ہیں ، آج ہان محترم خاندانوں ، ان آباء اجداد، ان ماؤں ، ان زوجات ، ان بچوں ،ان بھائیوں اور بہنوں کا ذکر کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے عزیز ترین رشتے داروں کی خبر شہادت کو سنا اور اب تک انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ اپنے عزیزوں کے فراق کا درد برداشت کر رہے ہیں ، آج فخر و احترام کے ساتھ اس جنگ میں زخمی ہونے والے اپنے عزیزوں کا ذکر کرتے ہیں خاص طور پہ جو ہمیشہ کے لیے معذوری سے دوچار ہو کر زندہ شہداء کہلائے بے شک اللہ چاہتا ہے کہ یہ زندہ شہداء ہمارے درمیان اس عظیم بہادری کے شاہد بن کر باقی رہیں کہ جو دنیا کے  بد ترین دہشت گردوں کے خلاف نظر آئی بے شک آپ وہ قوم ہیں جس نے اپنے بیٹوں کو قربان کر کے عالمی دہشت گردوں کے خلاف فتح و نصرت حاصل کی، ہم انتہائی ادب و احترام کے ساتھ ان تمام اہل وطن کا ذکر کرتے ہیں کہ جنہوں نے میدان جنگ میں لڑنے والے اپنے بھائیوں کے حوصلوں کو بلند رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے بے شک یہی لوگ بہترین مدد گار اور پشت پناہ ثابت ہوئے ، ہم انتہائی شکر و تقدیر کے ساتھ ان تمام احباب کا ذکر کرتے ہیں کہ جن کا مفکر ، مثقف ، طبیب ،شاعر ،کاتب ، صحافی وغیرہ کی حیثیت سے اس معرکہ میں کوئی بھی مثبت کردار رہا ، اسی طرح سے ہم ان تمام دوستوں کا بھی شکر ادا کرتے ہیں کہ جو داعشی دہشت گردوں کے خلاف عراق اور اہل عراق کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان کے بہترین مدد گار ثابت ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اشرار کے شر سے محفوظ رکھے اور انہیں امن و سلامتی کی نعمت سے مالا مال کرے۔
اس موقع پر ہم چند امور کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں:
امر اول:۔ داعش کے خلاف یہ فتح و نصرت دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف آخری معرکہ نہیں ہے بلکہ یہ معرکہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دنیا میں شدت پسند افکار کو گلے لگانے والے لوگ موجود ہیں یہ شدت پسند اپنے خبیث اہداف کی خاطر دوسروں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہنا قبول نہیں کرتے اور نہ ہی نہتے شہریوں کا خون بہانے ، بچوں اور عورتوں کو قیدی بنانے اور شہروں کو تباہ کرنے سے پیچھے ہٹتے ہیں بلکہ اپنے غلط گمان کے مطابق ان درندہ و وحشی افعال کو خدا کی قربت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں ۔لہٰذا اس  جاری  خطرے سے نبٹنے میں سستی کرنے سے خبر دار رہیں اور پوشید ہ دہشت گردوں اور ان کے خفیہ نیٹ ورک کو ختم کرنے پہ توجہ دیں یہ دشت گرد اس ملک کے امن و امان اور استقرار کو تباہ کرنے کے لیے ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔دہشت گردوں کی فکری و دینی جڑوں ، افرادی و مالی قوت ، وسائل اعلام  کے ذریعے معاونت اور پشت پناہوں کو ختم کرنا واجب ہے اور اس کام کے لیے سیکیورٹی اور معلومات پر مشتمل دقیق ترین منصوبہ اور عمل کی ضرورت ہے تا کہ صحیح و مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔

ضروری ہے کہ دہشت گرد اور شدت پسند افکار کے بطلان کو ثابت کرنے اور اس کے دین اسلام سے خارج ہونے کے حوالے سے کام کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند افکار کی معاشرے میں نشرواشاعت کی جائے ۔اور اسی طرح سے داعش سے آزاد کروائے جانے والے علاقوں میں معیشت کو مضبوط کرنے اور تعمیر و ترقی کے لیے کام کیا جائے اور مہاجرین کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے علاقوں میں دوبار ہ سے زندگی گزارنے کے قابل کیا جائے اور اس بات کی ضمانت فراہم کی جائے کہ ان کے دستوری حقوق انہیں فراہم کیے جائیں گے اور گزشتہ غلطیوں کا اعادہ نہیں جائے گا ۔
امر دوم:۔اب بھی عراق کے سیکیورٹی نظام کو ایسے بہت سے بہادروں اور دلیر افراد کی ضرورت ہے کہ جنہوں نے ماضی میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو کی مدد کی اور مختلف محاذوں پر ان کے ساتھ مل کر جنگ کی اور مشکل ترین حالات میں ثابت قدم رہے بے شک ان افراد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین، عزت و ناموس اور مقدس اشیاء کا دفاع کرنے کے قابل ہیں انہوں نے میدان جنگ میں وہ کارنامے سر انجام دئیے کہ جسے دیکھ کر اب تک پوری دنیا حیران ہے ۔ خاص طور پر عراق کے امن و امان  بحال کرنے والے اداروں کو ان نوجوانوں کی اشد ضرورت ہے کہ جنہوں نے اس عرصے کے دوران مختلف عسکری و  خفیہ اداروں کے آپریشن میں شرکت کی اور جنگی و فنی مہارت کو حاصل کیا اور نظم و ضبط ، شجاعت ،حب الوطنی اور ایمان کی بہترین مثال ثابت ہوئے انہوں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں کسی قسم کی سستی یا لاپرواہی سے کام نہ لیا ۔ضروری ہے قانون اور دستور کے دائرہ میں رہ کر ان صلاحیتوں سے مسلسل مدد لی جائے بے شک دستور ہی اسلحہ کو حکومت کے ہاتھوں میں باقی رکھنے اور وطن کی حفاظت ، اس کے حاضر اور مستقبل کو بچانے اور کسی بھی نئی دہشت گرد کاروائی کو روکنے کے سلسلہ میں ان بہادر نوجوانوں سے استفادہ کی صحیح سمت معین کر سکتا ہے۔
امر سوئم:۔ ہمارے وہ عظیم شہداء کہ جن کا خون سرزمین عراق پر بہا دیا گیا، یقینا وہ  جنت خلد میں بلند مرتبے پر فائز ہیں، لیکن ان کا ہم پر کم سے کم حق یہ ہے کہ ہم ان کی بیوگان، یتیموں اور ان کے خاندانوں کا خیال رکھیں، کیونکہ ان خاندانوں کی دیکھ بھال، رہائش، صحت، تعلیم اور زندگی کے دوسرے اخراجات کا مہیا کرنا ایک قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ وہ قوم کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے شہیدوں کے خاندانوں کی پروا نہ کرے کہ جنہوں نے اپنے ملک کی عزت و وقار کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں ،یہ کام بنیادی طور پر حکومت اور پارلیمنٹ کا ہے کہ وہ شہداء کےخاندانوں کو اور خاص طور پر داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والوں کےلواحقین کو ایک مناسب و باعزت زندگی گزارنے کے لئےمعقول اخراجات فراہم کرے۔
امر چہارم:۔ داعش کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے عظیم مجاہدوں کی صفوں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے، اور ان میں سے کثیر تعدادکو طبی دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے اور خاص طور پر وہ افراد جن کو مستقل معذوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان میں سے بعض افراد اپنی بصارت کھو چکے ہیں یا جسم کے دوسرے اعضاء سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہمارے یہ پیارے سب سے زیادہ توجہ اور نگہداشت کے مستحق ہیں، کیونکہ ان کی وجہ سے ملک آزاد ہوا، دہشت گردی ختم ہوئی اور ہماری عزت وقار اور حاکمیت برقرار رہی۔ لہذا یہ اولین فرض ہے کہ ان کی مصیبت اور غم کو کم کرنے اور ایک مہذب زندگی گزارنے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے جائیں، حکومت اور پارلیمنٹ کے نمائندوں کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے غیر ضروری اخراجات کو نظرانداز کر کے اس کام کے لئے خصوصی فنڈز مختص کیے جائيں۔
امر پنجم:۔ گزشتہ چند برسوں سے ملکی دفاع کےلئے اس مقدس جہاد میں حصہ لینے والے لوگوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں کہ جنہوں نے کسی بین الاقوامی شہرت یا انعام کے لیے اس جہاد میں حصہ نہیں لیا، بلکہ مذہبی قیادت کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اور اسے مذھبی و قومی فرئضہ سمجھتے ہوئے اس میں شمولیت اختیار کی۔ یہ سب انہوں نے عراق اور عراقیوں کی محبت میں کیا اور ان کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ انہوں نے عراقی عورتوں کی آبرو کو  داعش جیسی تنظیم کے ہاتھوں سے محفوظ کیا اور مقدس مقامات کی بحالی اور تحفظ کو یقینی بنایا، اسی طرح ان کا یہ عمل کسی بھی دنیاوی لالچ سے خالی تھا، اسی وجہ سے انھوں نے ہر ایک کے دل میں وہ عزت اور بلند مرتبہ پایا جو کسی بھی سیاسی تحریک یا تنظیم کو حاصل نہیں ہے۔ اور یہ بہت ضروری ہے کے اس بلند مرتبے اور اچھی ساکھ کو برقرار رکھا جائے۔
امر ششم:۔ بدعنوانی اور کرپشن کے خاتمے کی طرف موثر انداز میں قدم اگلے مرحلے کی ترجیحات میں سے ایک ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ مالی اور انتظامی بدعنوانیوں کے خلاف قانونی بنیادوں پر پیشہ وارنہ، حقیقت پسندانہ اور عملی منصوبوں کے تحت مضبوطی سے لڑا جائے، بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف جنگ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہے لیکن خدا کی مدد سے انشاء اللہ عراقی لوگ اس جنگ کو لڑنے کے لئے تیار اور قابل ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ عراق کی بھلائی کے لیے عراق اور عراقی لوگوں کی مدد کرے بے شک وہ  سننے والا اور مدد کرنے والا ہے

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے