×
العربيةفارسیاردوEnglish
×
العربيةفارسیEnglish
براہ راست نیابت میں زیارت تصاویر ویڈیوز اخبارتقاریر تصویریخطبات جمعہسیرت اہل بیتامام حسينادب حسینیاقوال معرفت موسوعہ حسینیمعارف اسلامیہمتابعاتمنصوبہ معماری رابطہ کریں

حرم مقدس حسینی

العربيةفارسیEnglish

خواہشات نفسانی اور معیار قرآنی

مادی خواہشات پر عالی خواہشات کی ترجیح کے لئے قرآن مجید کا کیا معیار ہے؟ ایک آسان تجزیہ وتحلیل کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک خواہش کے دوسری خواہش پر ترجیح کے لئے انسان کے پاس حقیقی معیار، لذت ہے. انسان ذاتاً یوں خلق ہوا ہے کہ اس چیز کی جستجو میں رہے جو اس کی طبیعت کے لئے مناسب اور لذیذ ہو اور ہر رنج والم کا باعث بننے والی شیٔ سے گریزاں ہو. اور وہ فوائد جو بعض نظریات میں خواہشات کے معیار انتخاب کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں وہ ایک اعتبار سے لذت کی طرف مائل ہیں ۔ 
اب یہ سوال در پیش ہے کہ اگر دو لذت بخش خواہشوںکے درمیان تعارض واقع ہو تو ہم کس کو ترجیح دیں اور کس کا انتخاب کریں؟ جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں میں سے جس میںزیادہ لذت ہو یاجوزیادہ دوام رکھتی ہو یا زیادہ کمال آفرین ہو اسی کو مقدم کیا جائے گا. لہذا کثیر پائدار یا زیادہ کمال کا جو باعث ہو، اسے انتخاب کا معیار قرار دیا جائے گا ۔ 
بعض خواہشات کی تامین بہت زیادہ لذت بخش ہے لیکن کمال آفرین نہیں ہے بلکہ کبھی تو نقص کا باعث ہوتی ہے یا دوسری خواہشات کی بہ نسبت اس میںبہت کم لذت ہوتی ہے اور بہت کم کمال کا سبب بنتی ہے ایسی حالت میں انتخاب کے لئے ایجاد کمال بھی مد نظر ہونا چاہیئے۔بہت زیادہ لذت،بادوام اور ایجاد کمال کو مد نظر قرار دینے سے انسان مزید سوالات سے دوچار ہوتا ہے، مثال کے طور پر اگر دو خواہشیں زمان یا بہت زیادہ لذت کے اعتبار سے برابر ہوں تو کسے مقدم کیا جائے؟ اگر ایک مدت کے اعتبار سے اور دوسرا بہت زیادہ لذت کے اعتبار سے برتری رکھتا ہو توایسی حالت میں کسے انتخاب کیا جائے؟ آیا جسمانی اور مادی لذتیں بھی برابر ہیں؟اورکون سی جسمانی لذت کس روحی لذت پر برتری رکھتی ہے؟آپ نے مشاہدہ کیا کہ یہ تینوں معیار،مقام عمل ونظر دونوں میں مشکلات سے روبرو ہیں اور گذشتہ دلیلوں کے اعتبار سے تمام انسانوں کے لئے بعض خواہشات کو بعض پرمقدم کرنا اور انتخاب کے سلسلہ میں صحیح قضاوت کرنا ممکن نہیں ہے۔
ایک بار پھر یہاں مسئلہ معرفت کی اہمیت اور مبدا ومعاد کی عظمت واضح ہوجاتی ہے۔ گذشتہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے انسان کی حقیقت اور دوام وپایداری کی مقدار نیز اس کمال کے ساتھ رابطہ اورحد کو جسے حاصل کرنا چاہتاہے،معلوم ہوناضروری ہے. سب سے پہلے یہ جاننا چاہیئے کہ کیا انسان موت سے نابود ہوجاتا ہے اور اسکی زندگی اسی دنیاوی زندگی سے مخصوص ہے یاکوئی دائمی زندگی بھی رکھتا ہے.اس کے بعد یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ کون سے کمالات انسان حاصل کرسکتا ہے اور بالخصوص کمال نہائی کیا ہے؟ اگر یہ دو مسئلے حل ہوجا ئیں اور انسان اس نتیجہ پر پہونچ جائے کہ موت سے نابود نہیں ہوتا ہے اور اس کی ایک دائمی زندگی ہے نیز اسکا حقیقی کمال قرب الہٰی ہے اور اس کے لئے کوئی حد نہیں ہے تو معیار انتخاب واضح ہوجائے گا. جو چیز انسان کو اس دائمی کمال تک پہونچائے اسے فوقیت دیتے ہوئے اسی کے مطابق عمل انجام دیا جائے یہی عام معیار ہے لیکن رہی یہ بات کہ کون سی خواہش کن شرائط کے ساتھ اس نقش کو انجام دے گی اور کون سی حرکت ہمیں اس دائمی اور بے انتہا کمال سے نزدیک یا دور کرتی ہے،ہمیں اس راہ کو وحی کے ذریعہ دریافت کرناہوگااس لئے کہ وحی کی معرفت وہ ہے جو اس سلسلہ میں اساسی اور بنیادی رول ادا کرے گی لہٰذا سب سے پہلے مسئلہ مبدأومعاد کو حل کرنا چاہیئے اور اسکے بعد وحی ونبوت کو بیان کرنا چاہئے تاکہ حکیمانہ اور معقول انتخاب واضح ہوجائے۔ اس نقطۂ نظر میں انتخاب کو سب سے زیادہ اور پایدار لذت اور سب سے زیادہ ایجاد کمال کے معیاروں کی مدد سے انجام دیا جا سکتا ہے انسان کی پوری زندگی کے مشخص ومعین نہ ہونے اور اس کمال کی مقدار جسے حاصل کرنا چاہتاہے اور سب سے بہتر خواہش کی تشخیص میں اس کی معرفت کے اسباب کی نارسائی کی بناپرمذکورہ مشکلات جنم لیتے ہیں اور یہ تمام چیزیں اس (وحی کے) دائرہ میں حل ہوسکتی ہیں