صلح حدیبیہ میں محو نبوت کمال ادب یا نافرمانی؟

موسوعہ اہل بیت

2018-07-30

442 مشاہدہ

مبغضین امیرالمومنین علی علیہ السلام کی جانب سے بعض اوقات ایسے شوشے اڑائے جاتے ہیں تاکہ اپنی مجازی حقیقت کو حقیقی میں تبدیل کرسکیں ان میں سے صلح حدیبیہ کہ کس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کا اسم مبارک بحیثیت رسول اللہ محو کیا جائے اور فقط اسم گرامی تحریرکیا جائے کیونکہ صلح حدیبیہ میں سہیل بن عمرو کی جانب سے شرائط میں مطلوب تھا اسی بناء پر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے محو نہ کیا مگر اس واقعہ کی تفاصیل میں چند موارد قابل ذکرہیں

1۔ بعض روایات میں اختلاف ہے کہ آیا اس صلح حدیبیہ میں انکار حضرت علی ابن ابیطالب علیہم السلام نے کیا یا کسی اور نے؟اور ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ بعض مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا اسم گرامی بحیثیت نبوت محو کرنے سے منع کیا۔

2۔ امام علیہ السلام کسی ایک دن بھی نبوت رسول اللہ پر شک نہ کرتے تھے بلکہ آپ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کے تمام فیصلوں پر یقین رکھتے تھے

3۔ روایت میں ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو بتایا کہ میرا دست اس ہاتھ کو نہیں کرسکتا ،نہ یہ کہ  آپ علیہ السلام نے انکار کیا ، اور آپ سے اپنا دست مبارک اپنے دست مبارک پر رکھنے کی درخواست کہ مجھ سے نبوت آپ کے نام سے محو ناممکن ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنا دست مبارک دست امیرالمومنین علیہ السلام پر رکھا اور محو فرمایا۔

4۔بعض علماء نے بھی اس فعل کو ادب و احترام کا اعلیٰ درجہ قرار دیا کیونکہ یہ انکار کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ یہ عناد و معصیت کے باعث نہ تھا جیسا کہ روایت میں ہے کہ شرح صحیح بخاری (ابن بطال البکری) میں ہے کہ علی علیہ السلام کا بجانہ لانا ایک ادبی فعل تھا نہ کی نافرمانی۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے